کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 486
’’عن عمرو بن عبد اللّٰه بن صفوان أن کَلَدَۃَ بن حنبل أخبرہ أن صفوان بن أمیۃ بعثہ بلبن ولبأ وضغابیس إلیٰ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم،والنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بأعلیٰ الوادي۔۔۔‘‘[1] الحدیث۔’’قال في الصحاح:اللبأ کعنب،أول اللبن في النتاج،[2] وقال في النھایۃ:اللبأ أول ما یحلب عند الولادۃ ‘‘[3] واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ أملاہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ [عمرو بن عبداﷲ بن صفوان سے مروی ہے کہ کلدہ بن حنبل نے ان کو خبر دی کہ صفوان بن امیہ نے ان کو دودھ،پیوسی اور ضغابیس (چھوٹے کھیرے) دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجے،جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے بالائی حصے میں تھے۔۔۔الحدیث۔صحاح میں ہے:’’اللباء‘‘ ’’عنب‘‘ کے وزن پر ہے اور اس سے مراد وہ پہلا دودھ ہے جو جانور کے بچہ جننے کے بعد دھویا جاتا ہے،نہایہ میں ہے:’’اللبأ:وہ پہلا دودھ ہے جو ولادت کے بعد دھویا جاتا ہے] [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۷۱۰) [2] الصحاح للجوھري (۲/ ۸۰) [3] النھایۃ في غریب الحدیث والأثر (۴/ ۴۱۹) تحفۃ الأحوذي (۷/ ۴۰۷)