کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 485
مذکورہ میں مضائقہ نہیں اور خواص کو بفحوائے حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہما شریک ہونا زیبا نہیں ہے۔واﷲ أعلم۔ 2۔مخفی نہ رہے کہ اگر سائل کے اس قول سے کہ قوم بھنگی،یعنی چوہڑے کوئی ظاہر میں تو کام مشروع بجا نہیں لاتے،مگر زبانی کلمہ محمدی پڑھ لیتے ہیں اور مردار کھا لیتے ہیں،یہ مراد ہے کہ پابند صوم و صلاۃ و حج و زکاۃ نہیں اور مستحل مردار ہیں اور کلمہ طیبہ عرف و رسم و رواج کے طور پر پڑھ لیتے ہیں اور نیز دفن میت بھی بایں طور کرتے ہیں تو ان کی نکاح خوانی مسلمانوں کو نہیں چاہیے،لیکن اگر نفس الامر میں مومن باﷲ والیوم الآخر ہیں اور اﷲ و رسول کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانتے ہیں اور یہ افعال و حرکات بحرص و ہوائے نفسانی مثل فساق سرزد ہوتے ہیں تو ان کی نکاح خوانی جائز ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب،حررہ:محمد حمایت اللّٰه،عفي عنہ سید محمد نذیر حسین هو الموافق جو مسلمانان کہ گاہ گاہ ادائے نماز وغیرہ فرائض و سنن میں شامل ہوتے ہوں اور زنا و فسق و فجور سے اکثر اوقات پرہیز نہ کرتے ہوں،وہ بلاشبہہ فاسق و فاجر ہیں۔میرے نزدیک ایسے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے ہر شخص کو احتراز چاہیے،عوام اور خواص،علما اور غیر علما میں سے کسی کو بھی ایسے لوگوں کی دعوت قبول نہیں کرنی چاہیے،کیونکہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی حدیث ’’نھی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن إجابۃ طعام الفاسقین‘‘ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے] سے عموماً ہر شخص کے لیے ممانعت ثابت ہوتی ہے،اس حدیث کو صاحبِ مشکاۃ نے بیہقی کی کتاب شعب الایمان سے نقل کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس حدیث کو ذکر کر کے لکھا ہے:’’أخرجہ الطبراني في الأوسط‘‘[1] واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] کیا پیوسی کا دودھ استعمال کرنا درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ پیوسی کھانا درست ہے یا نہیں ؟ پیوسی اس دودھ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے بچہ جننے کے بعد اول اول دھویا جاتا ہے۔لوگ اس کو کچھ اور دودھ اور کچھ میٹھا ملا کر پکاتے ہیں اور پکنے کے بعد وہ دودھ بستہ ہو جاتا ہے اور پھر اسے کھاتے ہیں ؟ جواب:پیوسی کا کھانا حلال و درست ہے۔جامع ترمذی (صفحہ:۴۴۵) میں ہے: [1] فتح الباري (۹/ ۲۵۰) قولہ:أخرجہ الطبراني في الأوسط الخ۔أقول عزاہ الھیثمي في مجمع الزوائد إلی الطبراني في الکبیر والأوسط ثم قال في سندہ أبو مروان الواسطي ولم أجد من ترجمہ۔انتھیٰ۔’’میں کہتا ہوں:ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ طبرانی نے اوسط اور کبیر دونوں میں اسے بیان کیا ہے۔اس کی سند میں ’’ابو مروان واسطی‘‘ ایک شخص ہے،جس کے حالات کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔(ابو سعید محمد شرف الدین،عفی عنہ) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۸)