کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 484
کتاب الأطعمۃ فاسق وغیرہ کی دعوت قبول کرنا: سوال:1۔بعض اشخاص فرقہ اسلامیہ میں زبان اور دل سے فقط مدعی تسلیمِ اسلام ہیں اور گاہ گاہ ادائے نماز وغیرہ ارکان،فرائض و سنن میں شامل ہوجاتے ہیں،لیکن منہیاتِ شرع،مثلاً:زنا و فسق و فجور سے بھی اکثر اوقات پرہیز نہیں کرتے،ان کے گھروں سے دعوت کا شرعاً کیا حکم ہے؟ 2۔ملک پنجاب میں قوم بھنگی،یعنی چوہڑے کوئی ظاہر میں تو کام مشروع نہیں کرتے،مگر زبانی کلمہ محمدی پڑھ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو بہت کاموں میں شامل کر لیتے ہیں،گویا خود بخود مدعی اسلام ہیں اور منکر اسلام نہیں ہوتے،ان کے گھروں میں برائے نکاح خوانی وغیرہ کو جانا ممنوع ہے یا نہیں ؟ مثل ہندوان یک لخت منکرِ اسلام نہیں ہیں اور مردار کھا لیتے ہیں۔ جواب:1۔واضح ہو کہ اشخاصِ مذکورہ،یعنی جو مدعی اسلام ہیں اور ترکِ صلاۃ ان سے تہاوناً و تکاسلاً پایا جاتا ہے اور منہیاتِ شرع سے اکثر اوقات پرہیز نہیں کرتے،عوام کو ان کی دعوت قبول کر لینا جائز ہے،اس لیے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:’’إِذا دعي أحدکم إلی طَعام فلیجب فإن شاء طعم وإن شاء ترک‘‘[1] (رواہ مسلم) [جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے تو اس دعوت کو قبول کرے،پھر چاہے تو کھائے چاہے تو نہ کھائے] نیز فرمایا:’’من لم یجب الدعوۃ فقد عصیٰ أبا القاسم(صلی اللّٰه علیہ وسلم)[2] [جس نے دعوت قبول نہ کی،اس نے ابو القاسم کی نافرمانی کی] نیز ارشاد کیا کہ حق مسلم کے مسلم پر پانچ ہیں،منجملہ ان کے اجابتِ دعوت کو بھی فرمایا۔[3] البتہ علمائے دیندار اور مقتدائے تقویٰ شعار کو ایسی دعوتوں سے اجتناب و احتراز چاہیے،کیونکہ بیہقی میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’نھیٰ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن إجابۃ طعام الفاسقین‘‘[4] [نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسقین کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے] پس بمقتضائے عمومِ حدیث عوام الناس کو اجابتِ دعوت اشخاص [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۳۰) [2] مسند أبي یعلیٰ (۱۰/ ۲۹۵) نیز دیکھیں:صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۸۸۲) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۳۲) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۱۸۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۱۶۲) [4] المعجم الأوسط (۱/ ۱۴۰) شعب الإیمان (۲/ ۱۸۰) اس کی سند میں ’’ابو مروان واسطی‘‘ ضعیف ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۵۲۲۹)