کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 480
’’قال المھدي في البحر:أصول التحریم أما نص الکتاب أو السنۃ أو الأمر بقتلہ کالخمسۃ‘‘[1] [مہدی نے بحر میں لکھا ہے کہ حرمت کے اصول یا تو قرآن کی نص ہے یا حدیث اور یا پھر کسی چیز کے قتل کا حکم،جیسے کہ آپ نے پانچ چیزیں شمار کی ہیں ] ابن ماجہ میں ہے: ’’عن ابن عمر قال:من یأکل الغراب وقد سماہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فاسقاً؟ واللّٰه ما ھو من الطیبات‘‘[2] یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوا کون کھائے گا،حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام فاسق رکھا ہے؟ اﷲ کی قسم کوا طیبات سے نہیں ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پوتے قاسم بن محمد (جو مدینہ طیبہ کے مشاہیر فقہائے سبعہ سے ہیں اور افضل تابعین و کبار تابعین سے ہیں)نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے۔سنن ابن ماجہ میں ہے: ’’عن عائشۃ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:الحیۃ فاسقۃ،والعقرب فاسق،والفأرۃ فاسقۃ،والغراب فاسق:فقیل للقاسم:أیؤکل الغراب؟ قال:من یأکلہ بعد قول رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فاسقا‘‘[3] یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سانپ فاسق ہے اور بچھو فاسق ہے اور چوہا فاسق ہے اور کوا فاسق ہے۔قاسم بن محمد سے کہا گیا کہ کیا کوا کھایا جائے؟ انھوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کو فاسق فرمایا ہے۔پھر اس کے بعد کوا کون کھائے گا؟ اگر کوئی کہے کہ اکثر روایات میں لفظ غراب مطلق واقع ہوا ہے اور بعض میں لفظ غراب ابقع بقید ابقع وارد ہوا ہے تو مطلق کا مقید پر محمول کرنا ضروری ہے،بنا بریں صرف غراب ابقع کی حرمت ثابت ہوگی،نہ کہ مطلق غراب کی تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب بعض روایات میں کوئی لفظ مطلق بلا قید واقع ہو اور بعض روایات میں اس مطلق کے کسی ایک فرد پر تنصیص ہو تو ایسی صورت میں عند الجمہور مطلق مقید پر محمول نہیں ہوتا،بلکہ مطلق اپنے اطلاق پر باقی رہتا ہے۔علامہ شوکانی نیل الاوطار (۵/ ۸۷) میں مسئلہ احتکار کی تحقیق میں لکھتے ہیں: ’’وظاھر أحادیث الباب أن الاحتکار محرم من غیر فرق بین قوت الآدمي والدواب وبین غیرہ،والتصریح بلفظ الطعام في بعض الروایات لا یصلح لتقیید بقیۃ الروایات المطلقۃ،بل ھو من التنصیص علیٰ فرد من الأفراد التي یطلق علیھا المطلق،وذلک [1] نیل الأوطار (۸/ ۲۰۰) [2] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۲۴۸) [3] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۲۴۹)