کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 48
علماے ہند میں کسی کی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی۔اسی طرح ’’أبکار المنن‘‘ اور ’’تحقیق الکلام‘‘ آپ کے تبحرِ علمی کے شاہکار ہیں۔‘‘[1] شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز رحمہ اللہ (المتوفی ۲۰۰۸ء) فرماتے ہیں: ’’امام العصر حضرت مولانا عبد الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ۔قدس اللّٰہ روحہ۔ان نادرہ روزگار ہستیوں میں سے تھے،جو صدیوں میں کبھی کبھی صفحہ دہر پر جلوہ گر ہوتی ہیں۔اپنی آب و تاب اور چمک و دمک سے دنیا کو منور کر دیتی ہیں۔آسمانِ علم و فضل پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکتی اور اپنی ضیا پاشیوں سے اذہان کی ایک دنیا کو روشن و منورکر دیتی ہیں۔جن کے بحرِ علم سے بے شمار تشنگانِ علم کو اپنی پیاس بجھانے اور ٹھنڈک محسوس کرنے کا موقع ملتا۔جن کے گوہر ہاے علم سے انسانیت کے علمی خزانوں میں گراں قدر اضافہ ہوتا ہے۔جن کی عظیم الشان علمی خدمات کی دنیا معترف ہوتی اورفیاضی کے ساتھ ان کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور جو اپنی عبقریت اور علمی عظمت کے ایسے نقوش اور نشان قائم کر جاتے ہیں،جو کبھی مٹائے مٹ نہیں سکتے۔‘‘[2] مولانا حکیم سید عبد الحی الحسنی (المتوفی ۱۳۴۱ھ) علمِ حدیث میں آپ کے کامل ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’کان متضلعا من علوم الحدیث،متمیزا بمعرفۃ أنواعہ،وعللہٖ،وکان لہ کعب عال في معرفۃ أسماء الرجال وفي الجرح والتعدیل وطبقات المحدثین وتخریج الأحادیث‘‘[3] ’’آپ علمِ حدیث میں کامل تھے۔اس طور پر کہ آپ اس کی قسموں اور علتوں کو پہچان کر ان میں تمییز کرنے والے تھے۔اسی طرح آپ کو اس کے اسمائے رجال کا پورا پورا علم تھا،نیز آپ کو رجالِ حدیث،جرح و تعدیل،طبقاتِ محدثین اور تخریجِ حدیث کے بارے میں مکمل علم تھا۔‘‘ علامہ ڈاکٹر تقی الدین الہلالی المراکشی (المتوفی ۱۹۷۸ء) فرماتے ہیں: ’’میں اپنے رب کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ ہمارے شیخ عبدالرحمن بن عبد الرحیم مبارک پوری رحمہ اللہ اگر تیسری صدی ہجری کی شخصیت ہوتے تو آپ کی وہ تمام حدیثیں جنھیں آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے،صحیح ترین احادیث ہوتیں۔ہر وہ چیزجسے آپ روایت کرتے،حجت بنتی اور اس بات میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہ ہوتا۔‘‘[4] [1] تذکرہ علماے اعظم گڑھ،(ص:۱۴۵،۱۴۶) [2] المقالۃ الحسنیٰ،(ص:۳) [3] نزہۃ الخواطر (۸/ ۲۴۲) [4] ہندوستان میں علما و محدثین کی دینی خدمات از مولانا غازی عزیز،سہ ماہی مجلہ ’’تحقیقاتِ اسلامی‘‘ علی گڑھ،دسمبر ۱۹۹۲ء،بحوالہ ’’دبستانِ حدیث‘‘ از مولانا محمد اسحاق بھٹی،(ص:۲۰۳)