کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 479
نہیں چاہیے۔امام ابو حنیفہ کے سوا کسی صحابی اور کسی تابعی اور کسی عالم سے یہ قول منقول نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اگر جانور کے ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ میں سے زندہ بچہ نکلے،تو اس کو ذبح کرنا ضروری ہے۔قال في عون المعبود:بخلاف ما إذا خرج،وبہ حیاۃ مستقرۃ،فلا یحل بذکاۃ أمہ‘‘[1] [اگر بچہ ماں کے پیٹ سے زندہ برآمد ہو تو اس کو الگ ذبح کرنا پڑے گا،ماں کے ذبح کرنے سے بچہ حلال نہ ہوگا] واللّٰه أعلم بالصواب۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین ابو الطیب محمد شمس الحق غراب کا کھانا جائز ہے یا ناجائز؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین غراب موجودہ کی نسبت:آیا اس کا کھانا جائز ہے یا ناجائز؟ جمیع فقہا نے ابقع کو ناجائز تحریر کیا ہے اور شاہ اہل اﷲ صاحب نے کنز کے ترجمے میں اسی غراب موجودہ کو ابقع اور ممنوع الاکل فرمایا ہے۔فقہا نے اقسامِ غراب سے صرف دو قسموں کو جائز تحریر کیا ہے:ایک غراب الزرع کہ بالاتفاق حلال ہے اور دوسرا عقعق۔امام صاحب کے نزدیک اور امام ابو یوسف کے نزدیک ناجائز لکھا ہے اور عقعق کو شامی نے جنایۃ المحرم کے باب میں طائر ابیض تحریر کیا ہے اور کتاب الذبائح میں مثل کتوبر کے ’’فیہ سواد و بیاض‘‘ کر کے بیان کیا ہے،اس دیسی کوے کی نسبت تحریر فرمائیں کہ جائز یا ناجائز؟ جواب:دیسی کوا حرام ہے،اس کا کھانا جائز نہیں ہے،اس واسطے کہ صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خمس من الدواب کلھن فاسق،یقتلن في الحل والحرم:الغراب والحدأۃ والعقرب والفأرۃ والکلب العقور‘‘[3] کذا في بلوغ المرام یعنی من جملہ جانوروں کے پانچ جانور فاسق ہیں،جن کو حل و حرم دونوں جگہوں میں قتل کرنا چاہیے: 1۔کوا۔ 2۔چیل۔ 3۔بچھو۔ 4۔چوہا۔ 5۔کٹ کھنا کتا۔ اس حدیث متفق علیہ سے مطلقاً ہر کوے کی حرمت ثابت ہوتی ہے،پس دیسی کوے کی بھی حرمت اس حدیث سے ثابت ہوئی اور اس حدیث میں اگرچہ صاف لفظ میں ان پانچ جانوروں کا حرام ہونا مذکور نہیں ہے،بلکہ اس میں ان کے قتل کرنے کا حکم ہے،مگر اسی حکم سے ان کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے۔نیل الاوطار میں ہے: [1] عون المعبود (۸/ ۱۸) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۰۷) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۸۲۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۱۹۸) بلوغ المرام (۷۳۶)