کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 478
الحاصل یہ دونوں دلیلیں ناقابلِ اطمینان ہیں،پس اگر ان اشیاے مذکورہ کی حرمت یا کراہت پر کوئی دلیل صحیح ہو تو بلاشبہہ حرام و مکروہ ہوں گی،ورنہ ان کے حرام یا مکروہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔واﷲ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] بکری وغیرہ حلال جانور کے پیٹ سے نکلنے والا بچہ حلال ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ذبح کیا ایک بکری کو تو اس کے پیٹ میں سے ایک بچہ مردہ نکلا،آیا وہ حلال ہے یا حرام؟ جواب:جو بچہ بکری یا گائے یا کسی اور جانور ماکول اللحم کے پیٹ سے مردہ نکلے،وہ حلال ہے: ’’عن أبي سعید عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ قال في الجنین:ذکاتہ ذکاۃ أمہ۔[2] رواہ أحمد والترمذي وابن ماجہ،وفي روایۃ:قلنا یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ننحر الناقۃ ونذبح البقرۃ والشاۃ فنجد في بطنھا الجنین أنلقیہ أم نأکلہ؟ قال:کلوہ إن شئتم،فإن ذکاتہ ذکاۃ أمہ‘‘[3] یعنی ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کے بارے میں فرمایا کہ اس کی ماں کا ذبح کرنا جنین کا ذبح کرنا ہے۔یعنی جنین کو علاحدہ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے،جیسا کہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے اس کی ماں حلال ہوجاتی ہے،اسی طرح اس کی ماں ہی کے ذبح کرنے سے وہ جنین بھی حلال ہوجاتا ہے۔روایت کیا اس حدیث کو احمد اور ترمذی اور ابن ماجہ نے۔ایک روایت میں ہے کہ ہم لوگوں نے کہا:یا رسول اﷲ! ہم لوگ اونٹ اور گائے اور بکری ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے تو کیا اس کو پھینک دیں یا اس کو کھائیں ؟ آپ نے فرمایا:اگر تم لوگ چاہو تو کھاؤ،اس واسطے کہ اس کی ماں کا ذبح کرنا،اس جنین کا ذبح کرنا ہے،یعنی اس جنین کے حلال ہونے کے لیے اس کی ماں کا ذبح کرنا کافی ہے،اس جنین کو ذبح کرنے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح اور قابلِ احتجاج ہے،دیکھو:نیل الاوطار اور تلخیص الحبیر۔[4] اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بکری یا گائے یا کسی اور جانور ماکول اللحم کے ذبح کے بعد اس کے پیٹ میں سے جو بچہ مردہ نکلے تو وہ حلال ہے اور یہی مذہب ہے امام شافعی اور امام احمد اور امام مالک اور امام ابو یوسف اور امام محمد وغیرہم کا۔امام ابن المنذر نے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے سوا کسی صحابی اور کسی تابعی اور کسی عالم سے یہ بات مروی نہیں کہ جنین کو بغیر ذبح کے کھایا جائے،یعنی صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہ قول ہے کہ ذبح کے بعد پیٹ سے جو مردہ بچہ نکلے،وہ حرام ہے،اس کو کھانا [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۱۹) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۸۲۹) مسند أحمد (۳/ ۴۵) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۸۲۷) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۱۹۹) [4] التلخیص الحبیر (۶/ ۳۰۷۳) نیل الأوطار (۹/ ۱۹)