کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 477
1۔دم مسفوح،یعنی خون جاری۔ 2۔ذکر،یعنی آلہ تناسل۔ 3۔خصیتان،یعنی دونوں بیضے۔ 4۔فرج،یعنی مادہ جانور کے پیشاب کا مقام۔ 5۔غدہ،یعنی غدود۔ 6۔مثانہ،یعنی پھکنا۔ 7۔مرارہ،یعنی پتا۔ عند الحنفیہ ان ساتوں چیزوں میں سے پہلی چیز،یعنی خون جاری حرام ہے اور باقی چھے چیزیں مکروہ تنزیہی ہیں،اس مطلوب پر علمائے حنفیہ دو دلیلیں پیش کرتے ہیں،ایک تو یہ کہ خون جاری کی حرمت قرآن مجید سے ثابت ہے اور باقی چھے چیزیں ایسی ہیں کہ نفوسِ انسانیہ ان کو خبیث جانتے ہیں: ’’قال في الحمادیۃ:والحرام منھا واحد،وھو الدم المسفوح،لقولہ تعالیٰ:{حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ} [المائدۃ:۳] والباقي من السبعۃ مکروہ،لأنہ مما یستخبثہ الأنفس،وما سوی ذلک مباح علیٰ أصلہ،لأن الأصل في الأشیاء الإباحۃ‘‘ انتھیٰ [حمادیہ میں ہے کہ ان سات چیزوں میں سے دمِ مسفوح تو حرام ہے،کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:’’تم پر مردار اور خون حرام ہے‘‘ اور باقی چیزیں مکروہ ہیں،کیوں کہ اس کو انسانی طبیعت برا محسوس کرتی ہے اور اس کے علاوہ تمام گوشت اپنے اصل پر مباح ہے،کیوں کہ اشیا میں اصل اباحت ہے] دوسری دلیل مجاہد کی مرسل روایت ہے: ’’قال في البزازیۃ:عن مجاھد أنہ علیہ السلام کرہ سبعۃ أشیاء من الشاۃ:الذکر،والأنثیان،والقبل،والمرارۃ،والغدۃ،والمثانۃ،والدم المسفوح‘‘[1] [مجاہد نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری سے سات چیزیں مکروہ سمجھیں،آلہ تناسل،خصیے،مادہ کی پیشاب کی جگہ،پتہ،غدود،مثانہ اور دمِ مسفوح] مگر یہ دونوں دلیلیں قابلِ اطمینان و لائقِ اعتماد نہیں ہیں،پہلی دلیل تو اس وجہ سے کہ جب شریعت نے حلال جانور کو حلال کر دیا تو ہمارے لیے اس کے تمام اجزا حلال ہیں،ہاں جس جزو کو خود شریعت ہی نے حرام بنا دیا تو وہ جزو البتہ حرام ہو گا۔ہمارے نفوس اور ہماری طبیعتوں کا بعض اجزا کو مکروہ و خبیث سمجھنا کوئی چیز نہیں ہے۔شریعت نے ہمیں اس کی اجازت بھی نہیں دی ہے کہ جن اجزا کو ہماری طبیعتیں خبیث سمجھیں تو ان اجزا کو ہم حرام یا مکروہ شرعی جانیں۔دوسری دلیل اس وجہ سے قابلِ اطمینان نہیں کہ وہ روایت مرسل ہے اور مرسل روایت کے قابلِ احتجاج ہونے میں اختلاف مشہور ہے اور ساتھ اس کے اس روایت کی سند پوری نقل نہیں کی جاتی،معلوم نہیں کہ اس کی سند کیسی ہے؟ [1] المراسیل لأبي داود (۴۹۳) نیز یہ روایت سیدنا ابن عباس سے بھی مرفوعاً مروی ہے،لیکن اس کی سند سخت ضعیف ہے۔دیکھیں:الکامل لابن عدي (۶/ ۲۱) ذخیرۃ الحفاظ لابن القیسراني (۲/ ۸۵۴)