کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 476
’’إذا کان ھوی لا یکفر صاحبہ،ولا یکون ماجنا،ویکون عدلا في تعاطیہ،وھو الصحیح‘‘ انتھیٰ [جب بدعت ایسی ہو جس پر کاربند کو کافر کہا جا سکے نہ بے حیا اور وہ اپنے عمل میں عادل ہو اور یہی صحیح ہے] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں لکھتے ہیں: ’’ثم البدعۃ إما أن تکون بمکفرۃ کأن یعتقد ما یستلزم الکفر أو بمفسق،فالأول لا یقبل صاحبھا الجمھور‘‘[1] [پھر بدعت یا تو کفر تک پہنچانے والی ہوگی،جیسے کوئی ایسا عقیدہ رکھے،جو کفر کو مستلزم ہو یا فسق تک پہنچائے گی،پہلے کی شہادت جمہور کے نزدیک قبول نہیں ہے] پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’فالمعتمد أن الذي ترد روایۃ من أنکر أمرا متواتراً من الشرع معلوما من الدین بالضرورۃ،وکذا من اعتقد عکسہ‘‘[2] انتھیٰ،ھذا ما عندي واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [صحیح بات یہ ہے کہ جو امرِ متواتر کا منکر ہو،جو دین سے یقینی طور پر ثابت ہیں تو اس کی شہادت مردود ہوگی اور جو غیر ثابت چیز کو دین میں داخل کرے،اس کی بھی] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] بکری میں سے کون کون سی چیزیں حلال ہیں ؟ سوال:بکری یا بکرے کی کھال،آنکھیں،کان،بیضہ،غدود،حرام مغز وغیرہ کتنی چیزیں حلال ہیں اور کتنی حرام؟ جواب:بکری وغیرہ جتنے جانور حلال ہیں،ان کے تمام اجزا حلال ہیں،ان کی کوئی چیز حرام نہیں ہے،ہاں دم مسفوح البتہ حرام ہے کہ اس کی حرمتِ صریح قرآن مجید میں آئی ہے،اس کے سوا باقی اور تمام چیزیں حلال ہیں،کیونکہ ان کی حرمت ثابت نہیں۔واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ:علی محمد عفي عنہ جواب صحیح ہے اور اس کی یہی دلیل کافی ہے کہ اس کی حرمت پر کوئی دلیل قائم نہیں ہے۔ واللّٰه أعلم وعلمہ أتم۔کتبہ:محمد بشیر،عفي عنہ۔سید محمد نذیر حسین هو الموافق کتبِ حنفیہ میں لکھا ہے کہ حلال جانور کی سات چیزیں مکروہ ہیں: [1] نزھۃ النظر (ص:۱۲۷) [2] نزھۃ النظر (ص:۱۲۷) [3] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۱۷)