کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 473
8۔فوق الحلق اور فوق العقدہ میں فرق ہے۔فوق الحلق حلق نہیں ہے اور فوق العقدہ حلق ہے۔ 9۔حلقوم کا مبدا اقصائے فم ہے اور ریہ تک منتہیۃ ہوتا ہے۔ 10۔مری کا بھی مبدا اقصائے فم ہے اور سر سینہ تک منتہی ہوتا ہے۔ 11۔ودجین کا مبدا و منتہیٰ حلق کی حد کے اندر نہیں ہے،بلکہ حلق کی حد سے خارج ہے۔ 12۔مکان مابین العقدۃ واللحیین بلاشبہہ منجملہ حلق کے ہے،کما مر۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین اہلِ بدعتِ مکفرہ کا ذبیحہ اور ان سے نکاح کرنے کا حکم: سوال:چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ عمرو کہتا ہے کہ ذبیحہ اہلِ بدعت کا،جن کی بدعت کفر کو پہنچ گئی ہو،حلال ہے اور امامت نا درست ہے اور نکاح ان کی عورتوں سے درست ہے،قیاساً علی اہل الکتاب،پس حکم ان کا مانند حکم اہلِ کتاب کے ہے،نہ کہ مانند اہلِ ارتداد کے،اور زید کہتا ہے کہ عمرو کا قول سراسر خطا ہے،بلکہ کفر ہے،کیونکہ ضروریاتِ دین کا منکر مرتد ہے اور مرتد کو اہلِ کتاب کا حکم دینا سراسر انکار ہے ضروریاتِ دین سے،پس ان دونوں میں سے کون سا مصیب ہے؟ جواب:زید مصیب ہے۔اہلِ بدعت،جن کی بدعت کفر کو پہنچتی ہے،کسی صورت سے اہلِ کتاب کا حکم نہیں پا سکتے،بلکہ مرتد کہلائیں گے اور ان کے ساتھ مرتدین کا سا معاملہ کیا جائے گا۔ ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘[2] رواہ البخاري۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو اپنے دین کو بدل دے،اس کو قتل کر دو] وعنہ أیضاً مرفوعاً:’’من خالف دینہ دین الإسلام فاضربوا عنقہ‘‘[3] أخرجہ الطبراني۔ [جو دینِ اسلام سے پھر جائے،اس کو قتل کر دو] منکر ضروریاتِ اسلام و مبتدع بہ بدعات مکفرہ کو اہلِ کتاب پر قیاس کرنا بالکل غلط اور بے اصل بات ہے،نہ کسی نے سلف و خلف میں سے ایسا قیاس کیا اور نہ کوئی سمجھ دار کر سکتا ہے۔اگر کتابی پر قیاس کیا بھی جائے اور اس کو،مثلاً یہود اور نصرانی قرار دیا جائے تو بھی وہ ازروئے شریعتِ محمدیہ مرتد معدود ہوگا اور اس کا معاملہ مرتدین کا ہوگا،جیسا کہ اوپر والی حدیثوں سے ظاہر ہوا۔ [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۱۳) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۵۲۴) [3] المعجم الکبیر (۱۱/ ۲۴۲) امام ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’رواہ الطبراني،وفیہ الحکم بن أبان،وھو ضعیف‘‘ (مجمع الزوائد:۶/۴۰۲)