کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 472
کیونکہ بلا کٹنے ودجین کے اِنہارِ دم نہیں ہوسکتا ہے۔اسی حدیث کی رو سے امام ثوری نے کہا ہے کہ ذبح میں اگر صرف ودجین کو قطع کرے اور مری اور حلقوم کو قطع نہ کرے تو جائز ہے: قال الحافظ في الفتح:’’وعن الثوري أن قطع الودجین أجزأ،وإن لم یقطع الحلقوم والمریٰ۔۔۔،واحتج لہ بما في حدیث رافع:ما أنھر الدم،وإنھارہ إجزاؤہ،وذلک یکون بقطع الأوداج،لأنھا مجریٰ الدم،وأما المریٔ فھو مجریٰ الطعام،ولیس بہ من الدم ما یحصل بہ إنھار‘‘[1] انتھیٰ۔ [حافظ نے فتح الباری میں کہا ہے کہ اگر رگیں کٹ جائیں تو کافی ہیں،اگرچہ حلق اور مری نہ کٹیں۔رافع کی حدیث میں ہے کہ جو چیز خون گرا دے۔خون ودجین کے کٹنے سے جاری ہوتا ہے،کیوں کہ خون کی گردش اپنی رگوں میں ہے اور مری تو طعام کی نالی ہے۔وہاں خون نہیں ہوتا] اس بارے میں کہ ذبح میں کتنی رگوں کا قطع کرنا ضروری ہے؟ ائمہ کا اختلاف ہے۔امام ثوری کا مذہب معلوم ہو چکا اور امام شافعی کے نزدیک صرف مری اور حلقوم کا کاٹنا ضروری ہے اور ودجین کا کاٹنا ضروری نہیں ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک مذکورہ چاروں رگوں میں سے بلا تخصیص تین رگوں کا کاٹنا ضروری ہے۔ان ائمہ کے دلائل پر مطلع ہونا چاہو تو فتح الباری اور ہدایہ کو دیکھو۔ 4۔حدیث:(( الذکاۃ بین اللبۃ واللحیین )) [2] [ذبح کرنا لبہ اور جبڑوں کے درمیان ہے] سے فقہائے حنفیہ استدلال کرتے ہیں،مگر یہ نہیں معلوم کہ امام صاحب نے اس سے استدلال کیا ہے یا نہیں ؟ 5۔کسی حدیث سے کسی مجتہد کا دلیل پکڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حدیث اس کے نزدیک صحیح و قابلِ استدلال ہے۔ 6۔حدیث:(( الذکاۃ بین اللبۃ واللحیین )) کو یوں ہی بلا سند و بلا ذکرِ مخرج علمائے حنفیہ اپنی کتابوں میں نقل کرتے ہیں۔معلوم نہیں کہ کس کتاب کی یہ حدیث ہے اور اس کی سند کیا ہے؟ اس حدیث کی نسبت حافظ ابن حجر درایہ تخریجِ ہدایہ میں لکھتے ہیں:’’لم أجدہ‘‘[3] یعنی اس حدیث کو میں نے نہیں پایا۔ 7۔حدیث:(( ألا إن الذکاۃ في الحلق واللبۃ )) [ذبح کرنا حلق اور لبہ میں ہے] کی سند واہی ہے۔قالہ الحافظ في الدرایۃ۔[4] [1] فتح الباري (۹/۶۴۱) [2] دیکھیں:نصب الرایۃ (۴/ ۱۸۵) امام زیلعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان الفاظ میں یہ روایت ’’غریب‘‘ (نامعلوم) ہے،نیز علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’لم یثبت ھذا الحدیث بھذہ العبارۃ‘‘ (البنایۃ شرح الھدایۃ:۱۱/۵۵۱) [3] الدرایۃ لابن حجر (۲/ ۲۰۷) [4] الدرایۃ لابن حجر (۲/ ۲۰۷)