کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 471
’’أما المری فإنہ یبتدیٔ من أقصیٰ الفم إلیٰ عند مقطع عظام القص‘‘ [مری منہ کے آخری حصے سے شروع ہوتی ہے اور سینے کی ہڈیاں ختم ہونے تک جاتی ہے] بحر الجواہر میں ہے: ’’مریٔ،کأمیر،مجریٰ الطعام والشراب إلیٰ المعدۃ والکرش اللاصق بالحلقوم‘‘[1] [مری وہ نالی ہے،جس سے کھانا اور پانی معدہ تک جاتا ہے] فتح الباری میں ہے: ’’وھما (أي الودجان) عرقان متقابلان،وھما محیطان بالحلقوم‘‘[2] [ودجان ایک دوسرے کے مقابل رگیں ہیں،جو حلقوم کو گھیرے ہوئے ہیں ] نیز ذبح فوق العقدہ میں اِنہارِ دم مسفوح بلاشبہہ پایا جاتا ہے،جس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا اور اِنہارِ دم مسفوح بلا قطع ہونے ودجین کے ہو نہیں سکتا،پس اس وجہ سے بھی ثابت ہوا کہ ذبح فوق العقدہ میں ودجین کا قطع ہونا بلاشبہہ پایا جاتا ہے اور ذبح فوق العقدہ میں مری،یعنی نر خرا کا کٹنا محسوس و مشاہد ہے،پس جب ودجین اور مری کا کٹنا ذبح فوق العقدہ میں بلاشبہہ پایا جاتا ہے تو حلقوم کا کٹنا بھی ضروری پایا جائے گا،کیونکہ ان تینوں کا کٹنا بلا کٹنے حلقوم کے ممکن نہیں ہے۔ہدایہ میں ہے: ’’لا یمکن قطع ھذہ الثلاثۃ (أي المریٔ والودجین) إلا بقطع الحلقوم‘‘[3] [مری اور ودجین کا کٹنا حلقوم کے کٹنے ہی سے ممکن ہوتا ہے] الحاصل ذبح فوق العقدہ میں ان چاروں کا قطع بلاشبہہ پایا جاتا ہے اور بعض علما کا یہ کہنا کہ فوق العقدہ نہ حلق ہے اور نہ قطع عروق ثلاثہ کا پایا جاتا ہے،بالکل غلط ہے اور مشاہدے کا انکار کرنا ہے۔ 1۔آیتِ کریمہ:{ اِلَّا مَا زَکَّیْتُمْ} میں مطلق ذکاۃ کا ذکر ہے اور: 2۔آیتِ کریمہ:{ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلُّ لَّکُمْ} میں حلت طعامِ اہلِ کتاب کا بیان ہے۔ ان دونوں آیتوں میں مذبح و منحر کا بیان ہی نہیں ہے،لہٰذا ان دونوں آیتوں سے اطلاق یا تقیید بہ تحت العقدہ کا کسی طرح پر ثبوت نہیں ہوتا۔ 3۔حدیث شریف (( أنھر الدم بما شئت )) [4] سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ذبح میں ودجین کا قطع ہونا ضروری ہے، [1] بحر الجواھر (ص:۲۲۷،أ) [2] فتح الباري (۹/ ۶۴۰) [3] الھدایۃ (۴/ ۶۴) [4] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۴۴۰۱)