کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 466
وھو ابن عبد اللّٰه بن عمر،والقاسم،وھو ابن محمد بن أبي بکر الصدیق،فأخرج ابن أبي شیبۃ عن الثقفي عن عبید اللّٰه بن عمر عنھما أنھما کانا یکرھان البندقۃ إلا ما أدرکت ذکاتہ،ولمالک في الموطأ أنہ بلغہ أن القاسم بن محمد کان یکرہ ما قتل بالمعراض والبندقۃ،وأما مجاھد فأخرج ابن أبي شیبۃ من وجھین أنہ کرھہ،زاد في أحدھما:لا تأکل إلا أن یذکیٰ،وأما إبراھیم،وھو النخعي،فأخرج ابن أبي شیبۃ من روایۃ الأعمش عنہ:لا تأکل ما أصبت بالبندقۃ إلا أن یذکیٰ،وأما عطاء فقال عبد الرزاق عن ابن جریج:قال عطاء:إن رمیت صیدا ببندقۃ فأدرکت ذکاتہ فکلہ وإلا فلا تأکلہ،وأما الحسن،وھو البصري،فقال ابن أبي شیبۃ:حدثنا عبد الأعلیٰ عن ھشام عن الحسن:إذا رمیٰ الرجل الصید بالجلاھقۃ فلا تأکل إلا أن تدرک ذکاتہ،والجلاھقۃ۔بضم الجیم وتشدید اللام وکسر الھاء،بعدھا قاف۔ھي البندقۃ بالفارسیۃ،والجمع جلاھق‘‘[1] انتھیٰ [ابن عمر کے اثر کو بیہقی نے ابو عامر کی سند سے موصول روایت کیا ہے۔ابن ابی شیبہ میں ہے ابن عمر بندوق کا (مقتول) شکار نہیں کھاتے تھے۔نافع کہتے ہیں:میں نے پتھر سے دو پرندے شکار کیے۔ایک تو مر گیا اور دوسرا زندہ رہا۔ابن عمر نے مرے ہوئے کو پھینک دیا۔عبیداﷲ بن عمر سے مروی ہے قاسم بن محمد بن ابوبکر اور سالم بن عبداﷲ بن عمر دونوں ہی بندوق (غلیل) کے شکار کو مکروہ سمجھتے تھے مگر جس کو پہلے ذبح کر لیا جاتا۔قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ غلیلہ کا شکار اگر ذبح کر لو تو کھاؤ،ورنہ نہ کھاؤ۔مجاہد،ابراہیم نخعی،عطا،حسن بصری کا بھی یہی قول ہے] نیز صفحہ (۲۸۵) میں لکھتے ہیں: ’’قولہ:المعراض۔بکسر المیم وسکون المھملۃ،وآخرہ معجمۃ۔قال الخلیل،وتبعہ جماعۃ:سھم لاریش لہ ولا نصل،وقال ابن درید،وتبعہ ابن سیدۃ:سھم طویل،لہ أربع قذذ رقاق،فإذا رمي بہ اعترض،وقال الخطابي،المعراض نصل عریض،لہ ثقل ورزانۃ،وقیل:عود رقیق الطرفین غلیظ الوسط،وھو المسمیٰ بالخذافۃ،وقیل:خشبۃ ثقیلۃ،آخرھا عصا،محدد رأسھا،وقد لا یحدد،وقویٰ ھذا الأخیر النووي تبعا لعیاض،وقال القرطبي:إنہ المشھور،وقال ابن التین:المعراض عصا في طرفھا حدیدۃ یرمي الصائد بھا الصید فما أصاب بحدہ فھو ذکي فیوکل،وما أصاب بغیر حدہ فھو وقیذ۔قولہ:وما أصاب بعرضہ فھو وقیذ۔وفي روایۃ في الباب الذي یلیہ:بعرضہ فقتل فإنہ وقیذ فلا تأکل،وقیذ وزن عظیم بمعنیٰ مفعول،وھو ما قتل بعصا أو حجر أو ما لا حد لہ،ووقع في روایۃ ھمام عن عدي الآتیۃ بعد باب:قلت: [1] فتح الباري (۹/ ۶۰۴)