کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 464
ہاں یہ ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ ’’الحجۃ الساطعۃ‘‘ بلاشک و شبہہ جناب مولانا حافظ عبداﷲ صاحب غازیپوری کی تصنیف ہے اور اس پر میرا دستخط ضرور ہے۔یہ فتویٰ میرے پاس قلمی تھا۔میرے پاس ہی سے ایک شخص حاجی نور محمد نام نے لے کر طبع کرایا۔طبع ہونے کے بعد اس پر اور علماے اہلِ حدیث کے دستخط دیکھنے میں آئے،جو میرے قلمی فتویٰ میں نہیں تھے۔میں ان دیگر علما کے دستخط اور ان کی عبارات کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کہ حاجی نور محمد نے کیونکر اور کہاں سے حاصل کیے اور حاجی نور محمد موجود بھی نہیں ہیں کہ ان سے دریافت کیا جائے۔فاللّٰه تعالیٰ أعلم بحقیقۃ الحال۔اور جن حضرات علماے کرام کے اس پر دستخط ہیں،وہ بھی موجود نہیں۔والسلام عبدالرحمن مبارکپوری،از مبارکپور،صوفی پورہ،ضلع اعظم گڑھ[1] کیا بسم اﷲ پڑھ کر گولی مارنے سے شکار حلال ہوجاتا ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ اگر کوئی شخص بندوق بنام خدا سر کرے و قبل از ذبح شکار مر جائے تو کھانا اس شکار کا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:اصل یہ ہے کہ اﷲ کا نام لے کر ایسی دھار دار چیز سے شکار کیا جائے جو اپنے دھار دار ہونے کی وجہ سے شکار میں نفوذ کر سکے اور شکار قبل از ذبح مر جائے تو وہ شکار حلال ہے،اس کا کھانا جائز ہے اور جو چیز ایسی نہیں ہے،بلکہ وہ ثقیل اور بھاری چیز ہے،جو اپنے ثقیل اور بھاری ہونے کی وجہ سے شکار کو مارتی ہے،جیسے پتھر اور بھاری لکڑی یا وہ چیز بھاری بھی نہیں ہے،بلکہ رامی کی قوت کی وجہ سے شکار کو مارتی ہے،جیسے بندوق کی گولی،چھَرا اور غلیل کی گولی،سو ان دونوں قسم کی چیزوں کا شکار جو قبل از ذبح مر جائے تو وہ حلال نہیں اور اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر فتح الباری (۲۳/ ۲۸۹) میں لکھتے ہیں: ’’قال المھلب:أباح اللّٰه الصید علیٰ صفۃ،فقال:{تَنَالُہٗٓ اَیْدِیْکُمْ وَ رِمَاحُکُمْ} [المائدۃ:۹۴] ولیس الرمي بالبندقۃ ونحوھا من ذلک،وإنما ھو وقیذ،وأطلق الشارع أن الخذف لا یصاد بہ،لأنہ لیس من المجھزات،وقد اتفق العلماء إلا من شذ منھم علیٰ تحریم أکل ما قتلتہ البندقۃ والحجر،انتھی،وإنما کان کذلک،لأنہ یقتل الصید بقوۃ رامیہ لا بحدہ‘‘[2] انتھی کلام الحافظ۔ [مہلب نے کہا:اﷲ تعالیٰ نے اس طرح کا شکار حلال کیا ہے کہ جس کو تمھارے ہاتھ اور نیزے پہنچتے ہوں اور بندوق یا غلیل کا شکار ایسا نہیں ہے۔وہ وقیذ ہے (جو چوٹ سے مر گیا) اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کنکری سے شکار نہیں کیا جاتا،کیوں کہ وہ شکار کا ہتھیار نہیں (ایسی چیز نہیں جو ذبح کرتی ہو) ہے۔ [1] منقول از رسالہ ’’بکرا دیوی‘‘ (ص:۴۰) [2] فتح الباري (۹/ ۶۰۷)