کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 463
کیا غیر اﷲ کے لیے نذر مانا ہوا جانور تکبیر پڑھ کر ذبح کرنے سے حلال ہوجاتا ہے؟[1] سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے میں کہ غیر اﷲ کے لیے نذر مانا گیا جانور مثل گائے سید احمد کبیر اور بکرا شیخ سدو اور دیوی اور بھیرو وغیرہ یا مرغا زین خاں مجاوروں سے خرید کر بسم اللّٰه،اللّٰه أکبر پڑھ کر ذبح کرنے سے حلال ہوجائے گا یا نہیں ؟ بینوا توجروا! جواب:کسی چیز کا،جانور ہو یا غیر جانور،غیر اﷲ کی نذر و نیاز چڑھانا حرام اور شرک و کفر کا کام ہے اور جو جانور غیر اﷲ کی نذر و نیاز چڑھایا گیا ہو،وہ حرام ہوگیا۔بسم اﷲ کہہ کر ذبح کرنے سے وہ حلال نہیں ہوسکتا۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ شارح ترمذی حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مبارکپوری کا مکتوب گرامی: رسالہ ’’الحجۃ الساطعۃ‘‘ اور اس کے مؤیدین علمائے کرام کے دستخطوں کی حقیقت (۲۲/ شوال ۱۳۴۴ء) از عبدالرحمن مبارکپوری۔بخدمت شریف مکرمی مولوی محمد اشرف صاحب۔بارک اللّٰه لکم وعافاکم۔السلام علیکم ورحمۃ اللّٰه وبرکاتہ! میں بخیریت ہوں۔اﷲ تعالیٰ آپ کو مع جملہ متعلقین بعافیت رکھے۔آپ کا خط ملفوف پہنچا،حالاتِ مرقومہ سے آگاہی ہوئی۔مکرمی حضرت مولانا حافظ عبداﷲ صاحب غازی پوری۔غفر اللّٰه لہ۔کا ایک مبسوط فتویٰ دربارہ حلّت سانڈ چھپا ہوا ہے،جس کا نام اس کے طبع کرانے والے نے ’’الحجۃ الساطعۃ‘‘ رکھا ہے۔[2] وہ فتویٰ بے شک جناب مولانا حافظ عبداﷲ کا ہے۔جس وقت جناب حافظ صاحب نے یہ فتویٰ تحریر فرمایا تھا،اس وقت میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔بے شک اس پر میرا بھی دستخط ہے۔یہ فتویٰ میرے پاس موجود تھا۔میں نے چاہا کہ اس کو آپ کی خدمت میں بھیج دوں،لیکن اس وقت وہ ملتا نہیں ہے۔بہت تلاش کیا،لیکن نا معلوم کہاں پڑ گیا ہے اور ابھی تلاش میں ہوں،مل گیا تو آپ کے پاس بھیج دوں گا۔ جس وقت میں نے دستخط کیا تھا،اس وقت میرا وہی خیال تھا جو ’’الحجۃ الساطعۃ‘‘ کے اندر مذکور ہے،لیکن اب سابق خیال میں تبدیلی ہوگئی ہے۔اب خود بہ نظرِ غور ’’الحجۃ الساطعۃ‘‘ کو دیکھنا چاہتا ہوں،افسوس کہ وہ ملتا نہیں۔بہر کیف میں از سرِنو اس مسئلے پر اچھی طرح غور کروں گا اور کیا عجب کہ بعد غور و خوض و بحث و تحقیق کے کچھ لکھوں بھی،آپ ہندوستان کے اکابر علماے اہلِ حدیث سے فتویٰ لے کر شائع کر دیں اور قبل اس کے کہ شائع کریں،میرے پاس اس کی نقل ضرور روانہ کریں۔ [1] منقول از رسالہ بکرا دیوی،مرتبہ مولوی محمد اشرف سکریٹری انجمن اہلحدیث سندو ہیڈ بلوکے،ضلع لاہور ۱۳۴۹ھ۔ [2] یہ فتویٰ حافظ عبداﷲ صاحب غازی پوری رحمہ اللہ کے ’’مجموعہ رسائل‘‘ (ص:۹۴) میں شائع ہو چکا ہے۔یہ مجموعہ دار ابی الطیب گوجرانوالہ کی طرف سے طبع ہوا ہے۔