کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 459
اللّٰہِ الْکَذِبَ وَ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ} [المائدۃ:۱۰۳] یعنی اﷲ نے نہیں ٹھہرائے ہیں بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام،لیکن کافر لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اکثر ان میں بے عقل ہیں۔ اس آیت سے صاف ثابت ہوا کہ سائبہ حلال ہے،اﷲ تعالیٰ نے اس کو حرام نہیں کیا،مگر کفار نے اﷲ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کر اس کو حرام ٹھہرا لیا ہے۔تفسیر کبیر میں ہے: ’’لما کان الکفار یحرمون علیٰ أنفسھم الانتفاع بھذہ الحیوانات،وإن کانوا في غایۃ الاحتیاج إلیٰ الانتفاع بھا،بین اللّٰه تعالیٰ أن ذلک باطل،فقال:ما جعل اللّٰه من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام‘‘[1] [جب ایسے جانوروں سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھتے تھے،حالانکہ ان کو ان سے فائدہ اٹھانے کی شدید ترین ضرورت رہتی تھی تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ خدا تعالیٰ نے تو بحیرہ،سائبہ وغیرہ کو حرام نہیں کیا] نیز اس میں ہے: ’’قولہ:ما جعل اللّٰه أي ما حکم اللّٰه بذلک ولا شرع ولا أمر بہ‘‘[2] [یعنی اﷲ تعالیٰ نے اس کا حکم نہیں دیا ہے] نیز اس میں ہے: ’’قال ابن عباس:’’ولکن الذین کفروا یفترون علیٰ اللّٰه الکذب‘‘ یرید بہ عمرو بن لحي وأصحابہ،یقولون علیٰ اللّٰه ھذہ الأکاذیب والأباطیل في تحریمھم ھذہ الأنعام،والمعنیٰ أن الرؤساء یفترون علیٰ اللّٰه الکذب،فأما الأتباع والعوام فأکثرھم لا یعقلون،فلا جرم یفترون علی اللّٰه الأکاذیب من ھؤلاء الرؤساء‘‘[3] [حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا:’’کافر اﷲ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہیں۔‘‘ جیسے عمرو بن لحی اور اس کے ساتھی جنھوں نے اﷲ تعالیٰ پر بہتان لگایا کہ اس نے بحیرہ،سائبہ وغیرہ کو حرام ٹھہرایا ہے،یعنی روسائے کفار تو اﷲ پر بہتان لگاتے ہیں اور عوام محض بے وقوف ہوتے ہیں،وہ ان کی پیروی کرتے ہیں اور پھر وہ بھی اپنے روسا کی اتباع میں خدا پر جھوٹ بولتے ہیں ] جامع البیان میں ہے: [1] التفسیر الکبیر (۱۲/ ۴۴۵) [2] مصدر السابق [3] التفسیر الکبیر (۱۲/ ۴۴۶)