کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 457
کتاب الصید والذبائح کیا غیر اﷲ کے نام پر چھوڑے ہوئے سانڈ کو کھانا حلال ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ سانڈ،جو بازاروں میں پھرتے ہیں،ان کا کھانا درست ہے یا نہیں ؟ جواب:سانڈ کے چھوڑنے والے اگر اس کے کھانے کی اجازت دیں تو اس کا کھانا درست ہے اور ان کی اجازت نہ ہو تو بلا ان کی اجازت کے کھانا ہرگز درست نہیں۔سانڈ کے چھوڑنے والے اگر اجازت دیں تو اس کا کھانا اس وجہ سے درست ہے کہ سانڈ سائبہ ہے۔سائبہ حلال ہے اور اس کا کھانا درست ہے،لہٰذا سانڈ حلال ہے اور اس کا کھانا درست ہے۔سائبہ کے حلال ہونے پر قرآن مجید کی کئی آیتیں دلالت کرتی ہیں،ازاں جملہ ایک یہ آیت ہے: {قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَھُمْ سَفَھًام بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللّٰہُ افْتِرَآئً عَلَی اللّٰہِ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ} [ الأنعام:۱۴۰] یعنی بے شک خسارہ اٹھایا ان لوگوں نے جنھوں نے نادانی سے اپنی اولاد کو قتل کیا اور حرام ٹھہرایا اس چیز کو جو اﷲ نے ان کو دی اﷲ پر جھوٹ باندھ کر،بے شک وہ گمراہ ہوئے اور وہ راہ پانے والے نہ ہوئے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہے جو لڑکیوں کو جان سے مار ڈالتے تھے اور سائبہ وغیرہ کو حرام ٹھہراتے تھے۔ 1۔جامع البیان میں ہے: ’’وحرموا ما رزقھم اللّٰه:من البحائر ونحوھا‘‘[1] 2۔مدارک میں ہے: ’’وحرموا ما رزقھم اللّٰه:من البحائر والسوائب وغیرھما‘‘[2] 3۔ابو السعود میں ہے: ’’وحرموا ما رزقھم اللّٰه:من البحائر والسوائب وغیرھما‘‘[3] [1] جامع البیان للإیجي (ص:۵۸۴) [2] مدارک التنزیل للنسفي (۲/ ۴۹) [3] إرشاد العقل السلیم إلی مزایا القرآن الکریم لأبي السعود (۳/ ۱۹۱)