کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 455
المدافع عن عشیرتہ ما لم یأثم )) [1] [سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا:تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنے قبیلے کا دفاع کرے،بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو] وما رواہ أحمد و ابن ماجہ عن عبادۃ بن کثیر الشامي من أھل فلسطین عن امرأۃ منھم یقال لھا:فَسِیْلَۃُ،أنھا قالت:سمعت أبي یقول:سألت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقلت:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ! أمن العصبیۃ أن یحب الرجل قومہ؟ قال:(( لا،ولکن من العصبیۃ أن ینصر الرجل علی الظلم )) [2] (مشکوۃ شریف باب الشفاعۃ في الحدود فصل ثاني و باب المفاخرۃ والعصبیۃ فصل ثاني و ثالث) [3] [نیز جو امام احمد اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے۔عبادہ بن کثیر الشامی فسیلہ نامی ایک عورت سے روایت کرتے ہیں،انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ بھی عصبیت ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں،عصبیت تو یہ ہے کہ آدمی ظلم میں (اپنی قوم کی) مدد کرے] تیسری صورت کی ناجوازی کی دلیل ہے:{وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ} (بني إسرائیل،رکوع:۴) [اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں ] وما رواہ أبو داود و ابن ماجہ عن بریدۃ رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( القضاۃ ثلاثۃ،واحد في الجنۃ،واثنان في النار،فأما الذي في الجنۃ فرجل عرف الحق فقضیٰ بہ،ورجل عرف الحق فجار في الحکم فھو في النار،ورجل قضی للناس علی جھل فھو في النار )) [4] (مشکاۃ شریف،باب العمل في القضاء والخوف منہ،فصل ثاني) [نیز جو امام ابو داود اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے۔بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قاضی تین طرح کے ہیں:دو دوزخی اور ایک جنتی،جس حاکم نے حق والے کا حق پہچان لیا اور اسی کے مطابق فیصلہ بھی کیا،وہ حاکم جنتی ہے اور جس حاکم نے حق والے کا حق تو پہچان لیا،لیکن فیصلہ اس کے مطابق نہیں کیا،بلکہ جان بوجھ کر حق کے خلاف فیصلہ کیا،وہ حاکم دوزخی ہے اور جس حاکم نے حق والے کا حق تک بھی دریافت نہیں کیا اور یوں ہی بے سمجھے بوجھے فیصلہ سنا دیا،وہ حاکم بھی دوزخی ہے] [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۱۲۰) اس کی سند میں ایوب بن سوید ضعیف ہے۔ [2] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۹۴۹) مسند أحمد (۴/۱۰۷) اس کی سند میں عباد بن کثیر متروک ہے۔ [3] مشکاۃ المصابیح (۳/۶۳) [4] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۵۷۳) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۳۱۵)