کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 453
وقت کچھ تر ہوتا ہے بوجہ تازگی کے۔لہٰذا مہاجن لوگ آسن یا کاتک یا ساون میں اگر کسی کو دہان قرض دیتے ہیں تو وعدہ و اقرار کر لیتے ہیں کہ ہم پوس میں وصول کریں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کسان لوگ اگر پوس یا اگہن میں وصول نہ دیں تو پھر وصول کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور وصول کرتے وقت فی من ۴ سیر دہان زیادہ لیتے ہیں،کیونکہ سوکھ کر ایک ہی من ہو گا،گویا ایک ہی من وصول کیا۔اب سوال یہ ہے کہ اس طرح سے زیادہ لینا جائز ہے؟ یہ صورتاً زیادہ ہے،ورنہ حقیقت میں بعد سوکھنے کے ایک ہی من رہتا ہے۔اگر پوس میں ایک من لیں جتنا دیا تھا تو اس میں مہاجن کا نقصان ہے،یعنی ۴ سیر تقریباً کم ہوجاتا ہے،جو کچھ جواب ہو تحریر فرمائیں۔ سائل:عبدالرزاق موضع جائنکٹو پور۔ضلع بردوان۔پوسٹ بھیدیہ (بنگال) جواب:اس صورت میں اس طرح سے زیادہ لینا شرعاً ہر گز جائز نہیں ہے۔کسان لوگوں کو چاہیے کہ دہان کو سُکھا کر مہاجن کا قرض ادا کریں اور اسی قدر دیں جس قدر ان سے قرض لیا ہے اور مہاجنوں سے دھان قرض لیتے وقت سکھا کر دینے کا وعدہ و اقرار کر لیں۔ہذا ما عندي واللّٰه تعالیٰ أعلم أملاہ:محمد عبدالرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه تعالیٰ عنہ [1] اتحادِ جنس کی صورت میں غلے کی ادھار خرید و فروخت کرنا: سوال:غلے کی بیع درصورت اتحادِ جنس میعاد مقرر پر جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی غلے کے عوض غلہ میعاد مقرر پر برابر لینا دینا۔ جواب:بیع غلے کی در صورت اتحادِ جنس میعاد مقرر پر جائز نہیں۔مشکات میں ہے: عن عبادۃ بن الصامت قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( الذھب بالذھب و الفضۃ بالفضۃ،والبر بالبر،والشعیر بالشعیر،والتمر بالتمر،والملح بالملح،مثلاً بمثل سواء بسواء یدا بید،فإذا اختلفت ھذہ الأصناف فبیعوا کیف شئتم،إذا کان یدا بید )) [2] (رواہ مسلم) [عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سونے کے بدلے سونا،چاندی کے بدلے چاندی،گندم کے بدلے گندم،جَو کے بدلے جَو،کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں،جب یہ اصناف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہو تو جیسے چاہے بیچو] حررہ:أبو العلیٰ محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔[3] [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۶۰۰) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۵۸۷) [3] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۶۰۸)