کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 451
نکاح ہی کیوں نہ ٹوٹ جائے] سید محمد نذیر حسین هو الموافق فی الواقع صورتِ مسئولہ میں زید کو ہرگز جائز نہیں ہے کہ جائداد موہوبہ کو اپنی زوجہ اولیٰ سے واپس لے۔بلوغ المرام میں ہے: ’’عن ابن عمر عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہم عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(( لا یحل لرجل أن یعطي العطیۃ ثم یرجع فیھا إلا الوالد فیما یعطي ولدہ )) [1] رواہ أحمد والأربعۃ،وصححہ الترمذي وابن حبان والحاکم۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جائز نہیں ہے کہ کوئی آدمی عطیہ دے کر پھر اس سے رجوع کرے،مگر باپ اپنے بیٹے کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے۔اسے احمد اور اربعہ نے روایت کیا ہے۔ترمذی،ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے] قال في سبل السلام:’’قولہ:لا یحل۔ظاھر في التحریم،والقول بأنہ مجاز عن الکراھۃ الشدیدۃ صرف لہ عن ظاھرہ،وقولہ:إلا الوالد۔دلیل علیٰ أنہ یجوز للأب الرجوع فیما وھبہ لابنہ،کبیرا کان أو صغیراً،و خصتہ الھادویۃ بالطفل،وھو خلاف ظاھر الأحادیث۔انتھیٰ،وقال تحت حدیث العائد في ھبتہ کالکلب الخ:فیہ دلالۃ علیٰ تحریم الرجوع في الھبۃ،وھو مذہب جماھیر العلماء،وبوب البخاري:باب لا یحل لأحد أن یرجع في ھبتہ وصدقتہ الخ‘‘[2] واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [سبل السلام میں ہے کہ لفظ ’’لا یحل‘‘ حرام ہونے میں ظاہر ہے،یہ کہنا کہ یہ شدید کراہت پر بطور مجاز بولا گیا ہے لفظ کو اس کے ظاہر معنی سے پھیرنا ہے۔’’إلا الوالد‘‘ اس کی دلیل ہے کہ باپ اپنے بیٹے کو ہبہ کر کے واپس لے سکتا ہے،بیٹا خواہ بڑا ہو یا چھوٹا،جمہور کا یہی مذہب ہے۔ہادویہ صرف چھوٹے بچے سے باپ کا رجوع جائز سمجھتے ہیں،لیکن یہ حدیث کے خلاف ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ ترجمہ باب میں فرماتے ہیں کہ صدقہ اور ہبہ میں رجوع جائز نہیں ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] کیا ہبہ میں قبضے میں لینا شرط ہے؟ سوال:کیا ہبہ میں قبضے میں لینا شرط ہے؟ [1] مسند أحمد (۲/ ۲۷) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۵۳۹) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۱۳۲) سنن النسائي،رقم الحدیث (۳۶۹۲) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۳۷۷) [2] سبل السلام (۳/ ۹۰) [3] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۲۹۳)