کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 450
پس جب احادیث سے یہ دونوں باتیں ثابت ہیں تو معلوم ہوا کہ زمین مرہونہ سے مرتہن کو نفع اٹھانا جائز نہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین مرہونہ کا قیاس سواری کے جانور پر صحیح نہیں ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین ہبہ کے بعد جائیداد واپس لینا جائز نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے مسماۃ ہندہ اہلیہ سابقہ کو جس کے عقد کو عرصہ چھتیس سال کا ہوا اور اس سے ایک بیٹا اور بیٹی اورپوتا و پوتی و نواسہ وغیرہ پیدا ہوئے،اور اب زید نے مسماۃ ہندہ اہلیہ سابقہ کے پاس دوسرے مکان میں آنا جانا اور خدمت لینا اور حق شب داری وغیرہ واسطے لگانے الزام عدمِ اطاعت و نافرمانی کے ترک کیا اور اس مدت دراز زمانہ موافقت میں (چھتیس سال میں)جو کچھ زید نے تھوڑی یا بہت جائداد منقولہ یا غیر منقولہ اپنی رضا مندی سے اہلیہ سابقہ اپنی کو ہبہ کر کے دے دی ہے اور قابض کر دیا ہے،اب بوجہ طمع نفسانی یا کسی اغوایش یا اہلیہ جدیدہ کی آسایش کے خیال سے وہ ہبہ کی ہوئی جائداد کو عدمِ اطاعت و نافرمانی کا الزام اہلیہ سابقہ کو لگا کر واپس لینا چاہتا ہے،حالانکہ اہلیہ سابقہ کو اطاعت و فرمانبرداری میں بموجب حکم شرع کے زید شوہر اپنے سے بالکل انکار نہیں،پس ایسی حالتِ واقعہ میں زید کا جائداد موہوبہ کو اہلیہ سابقہ سے واپس لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:در صورتے کہ زید نے اپنی جائداد منقولہ یا غیر منقولہ برضا و رغبت اپنی زوجہ اولیٰ کو ہبہ کر دی اور قابض بھی کر دیا تو بلاشبہہ جائداد موہوبہ ملک زوجہ اولیٰ کے ہوگئی۔اب زید کے لیے جائداد موہوبہ کو واپس لینا شرعاً جائز نہیں ہے: ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہ قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( العائد في ھبۃ کالکلب یقیٔ ثم یعود في قیئہ )) [2] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہبہ میں رجوع کرنے والے کی مثال کتے کی سی ہے،جو قَے کر کے پھر کھا لیتا ہے] عالمگیریہ میں ہے: ’’إذا وھب أحد الزوجین لصاحبہ،لا یرجع في الھبۃ،وإن انقطع النکاح بینھما‘‘[3] انتھیٰ واللّٰه أعلم بالصواب [میاں بیوی میں سے اگر کوئی دوسرے کو کوئی چیز ہبہ کرے تو اس میں رجوع نہیں کر سکتا،خواہ ان کا [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۲۶۸) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۵۷۴) [3] الفتاویٰ الھندیۃ (۴/ ۳۸۶)