کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 446
’’والبیع الباطل لا یفید ملک التصرف ولو ھلک المبیع فیہ فیکون أمانۃ عند بعض المشائخ لأن العقد غیر معتبر فبقي القبض بإذن الملک،وعند البعض یکون مضمونا،لأنہ لا یکون أدنیٰ حالا من المقبوض علیٰ سوم الشراء۔قیل:الأول قول أبي حنیفۃ،والثاني قولھما‘‘[1] انتھیٰ [باطل بیع مالکانہ تصرف کا فائدہ نہیں دیتی،اگر چیز اس باطل بیع میں ضائع ہو گئی تو بعض مشائخ کے نزدیک اس کی حیثیت امانت کی ہے،کیوں کہ یہ معاملہ معتبر نہیں،یہ قبضہ مالک کے اذن سے ہو گا،بعض مشائخ کے نزدیک وہ چیز قابلِ ضمانت ہے،کیوں کہ یہ بیع کے مقابلے میں مقبوض سے زیادہ قریب نہیں۔کہا گیا ہے کہ پہلا قول ابو حنیفہ کا ہے اور دوسرا صاحبین کا] اور بصورت نہیں دلانے جانے قیمت کے،بلکہ وہی زمین جو متنازع فیہ ہے،جس قدر کہ مکان ہدم کرنے میں خسارہ مدعی علیہ کا ہوگا،مدعیان سے دلایا جائے گا یا نہیں ؟ کیونکہ تھوڑی سی اراضی نکالنے میں مدعا علیہ کا لاکھوں روپے کا مکان منہدم ہوجائے گا؟ امید کہ ہر شقوق کا جواب مع تفصیل عنایت فرمایا جائے۔فقط جواب:صورتِ مسئولہ میں دعویٰ رحیمن و شوہر نصیبن کا مردود و غیر مقبول ہے موافق قول فقہائے کرام کے،جو سوال میں مذکور ہے اور بر تقدیر قبول دعوی مدعیان کے قیمت مکان سابق کی دلائی جائے گی۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق تحریر قبالہ کے وقت اگر مسماۃ رحیمن و کریمن و نصیبن بالغہ تھیں اور وہاں حاضر تھیں اور ان کی اجازت سے مکان مذکور کا قبالہ لکھا گیا ہے،جیسا کہ سائل نے لکھا ہے تو اس صورت میں رحیمن و شوہر نصیبن کا دعویٰ مردود و غیر مقبول ہوگا اور اگر مسماۃ فہیمن نے بدون اطلاع رحیمن و کریمن و بحالت نابالغی نصیبن کے مکان مذکور کو فروخت کیا ہے،جیسا کہ مدعیان کا دعویٰ ہے تو اس صورت میں مدعیان کو مکان سابق کی قیمت دلائی جائے گی اور مکان حکیمن و شوہر حکیمن کا جو لاکھوں روپے کی عمارت ہے،منہدم کر کے اراضی نہیں دلائی جائے گی،کیونکہ مکان کے منہدم کرنے میں مدعا علیہ کا لاکھوں روپے کا نقصان ہے اور اگر مدعا علیہ اس نقصان کا متحمل ہو تو بھی مکان منہدم کر کے اراضی نہیں دلائی جا سکتی،اس واسطے کہ اس میں اضاعتِ مال ہے اور اضاعتِ مال ممنوع و ناجائز ہے۔ واللّٰه تعالیٰ أعلم۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] [1] الھدایۃ مع شرحہ البنایۃ (۸/ ۱۴۰) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۱۳۸)