کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 44
دار القرآن والحدیث کی دعوت پر چلے گئے اور وہاں چند سال پڑھایا۔اس کے بعد آپ تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے۔‘‘[1] مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی کے ہاں قیام: مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۲۹ھ)کا شمار نامور محدثین کرام میں ہوتا ہے۔آپ نے سنن ابی داوٗد کی دو شرحیں بزبان عربی ’’غایۃ المقصود‘‘ اور ’’عون المعبود‘‘ تالیف فرمائیں۔’’غایۃ المقصود‘‘ طویل شرح ہے اور ’’عون المعبود‘‘ اول الذکر کا خلاصہ ہے۔عون المعبود کی تالیف کے سلسلے میں مولانا شمس الحق نے چند ممتاز علماے حدیث کو اس کام میں معاون بنایا،جنھوں نے متن کی تصحیح اور شرح کی تالیف میں ان کا ہاتھ بٹایا۔مولانا عظیم آبادی نے ان سب علما سے ان کی استعداد کے مطابق کام لیا۔ان علماے کرام کے اسماے گرامی یہ ہیں: 1 مولانا شرف الحق محمداشرف ڈیانوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۲۶ھ) یہ مولانا شمس الحق ڈیانوی رحمہ اللہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ 2 مولانا عبد الرحمن بن حافظ عبد الرحیم مبارک پوری صاحبِ ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ (المتوفی:۱۳۵۳ھ)۔ 3 مولانا ابو عبد اللہ حکیم محمد ادریس ڈیانوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۶۰ھ) مولانا شمس الحق کے صاحبزادے۔ 4 مولانا عبد الجبار بن نور احمد ڈیانوی رحمہ اللہ مولانا شمس الحق کے ماموں زاد بھائی۔ مولانا ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۶۶ء) نے اس فہرست میں دو اورعلماے کرام کا اضافہ کیا ہے: 5 مولانا قاضی یوسف حسین خان پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۵۲ھ) 6 مولانا ابو یحییٰ محمد شاہجہان پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۳۸ھ) لیکن مولانا شمس الحق کو سب سے زیادہ اعتماد حضرت محدث مبارک پوری رحمہ اللہ پر تھا۔ ابو یحییٰ امام خان نوشہروی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مولانا شمس الحق رحمہ اللہ کو سب سے زیادہ اعتماد حضرت مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ پر تھا۔‘‘[2] حضرت محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نے مولانا شمس الحق ڈیانوی رحمہ اللہ کے ہاں چار سال (۱۳۲۰ھ تا ۱۳۲۳ھ) تک قیام کیا،ان کے تصنیفی کام میں معاون رہے اورعون المعبود کی شرح کی تالیف میں ان کی پوری مدد کی۔ عون المعبود (مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ) کے مقدمے میں مرقوم ہے: ’’کتب أولھما العلامۃ أبو الطیب شمس الحق العظیم آبادي،وتوفر علیٰ معاونتہ في إکمالہ العلامۃ أبو العلیٰ محمد عبد الرحمٰن بن عبد الرحیم المبارکفوري صاحب [1] تاریخ اہلِ حدیث (۳/ ۴۰۶) طبع دہلی ۲۰۰۹ء۔ [2] تراجم علماے حدیث ہند،(ص:۰۲ ۴)