کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 439
جائز ہے یا نہیں ؟ کوئی حدیث یا کوئی عبارت کتبِ معتبرہ مع حوالۂ کتب تحریر فرمائیں۔ جواب:جمہور علما کے نزدیک مردار کی کھال کو قبل دباغت کے فروخت کرنا جائز نہیں ہے اور زہری کے نزدیک جائز ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ کا میلان بھی جواز ہی کی طرف معلوم ہوتا ہے۔جمہور کی دلیل صحیح مسلم اور سنن کی حدیث ہے: ’’عن ابن عباس قال:تصدق علیٰ مولاۃ لمیمونۃ بشاۃ فماتت فمر بھا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال:ھلا أخذتم إھابھا فدبغتموہ فانتفعتم بہ؟ فقالوا:إنھا میتۃ؟ فقال:إنما حرم أکلھا۔[1] رواہ الجماعۃ إلا ابن ماجہ۔قال فیہ:عن میمونۃ۔جعلہ من مسندھا،ولیس فیہ للبخاري والنسائي ذکر الدباغ بحال،کذا في نیل الأوطار (۱/ ۵۹) [ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:میمونہ کی ایک لونڈی کو کسی نے ایک بکری صدقے میں دی تو وہ مر گئی۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتار لیا کہ اس کو رنگ کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے؟ کہنے لگے:یہ مرگئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کا کھانا حرام ہوتا ہے،چمڑے سے فائدہ اٹھانا تو حرام نہیں ہوا۔ابن ماجہ کے علاوہ ایک جماعت محدثین نے اسے روایت کیا ہے۔بخاری اور نسائی میں دباغت کا ذکر نہیں ] زہری کی دلیل صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے: ’’عن ابن عباس:أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم مر بشاۃ میتۃ فقال:ھلا استمتعتم بإھابھا؟ قالوا:إنھا میتۃ،قال:إنما حرم أکلھا‘‘[2] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ کہنے لگے:یہ تو مر گئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تو اس کا کھانا حرام ہوا ہے] جمہور نے زہری کی اس دلیل کا یہ جواب دیا ہے کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت مطلق ہے اور صحیح مسلم وغیرہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں دباغت کی قید آئی ہے،پس ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت مطلقہ مقیدہ پر محمول ہوگی۔حافظ ابن حجر فتح الباری (۲۳/ ۳۱۴) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت مطلقہ کے تحت میں لکھتے ہیں: ’’استدل بہ الزھري بجواز الانتفاع بجلد المیتۃ مطلقاً سواء دبغ أو لم یدبغ،لکن صح التقیید من طرق أخریٰ بالدباغ،وھي حجۃ الجمھور‘‘[3] انتھیٰ [زہری نے مردار کی کھال سے مطلقاً فائدہ حاصل کرنے میں اس حدیث سے استدلال کیا ہے،خواہ وہ چمڑا رنگا ہو یا نہ،لیکن دوسرے طرق سے چمڑے کا رنگا ہوا ہونا شرط معلوم ہوتا ہے اور جمہور کا یہی مذہب ہے] [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۶۳) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۱۲۰) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۷۲۷) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۱۰۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۳۳) سنن النسائي،رقم الحدیث (۴۲۳۸) [3] فتح الباري (۹/ ۶۵۸)