کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 431
کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین خلع کے بعد رجوع کے لیے حلالہ کی ضرورت نہیں ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی بی بی ہندہ کو بعوضِ مہر کے خلع کے طور پر طلاق دی،پھر کوئی دو برس کے بعد ہندہ کو اس نے اپنے پاس رکھ لیا اور اس کے ساتھ اوقات بسر کرنے لگا۔اب زید چاہتا ہے کہ اس سے نکاح جدید کر کے اس کو اپنی زوجیت میں لائے تو اب سوال یہ ہے کہ زید ہندہ کو بغیر حلالہ کے نکاح جدید کے ساتھ اپنی زوجیت میں لا سکتا ہے یا نہیں ؟ نیز اس اوقات بسری کے زمانے میں جو زید نے ہندہ کے ساتھ صحبت کی ہے،جس کا وہ خود مقر بھی ہے،اب اس پر کفارہ شرعاً اس کا آئے گا یا نہیں ؟ جواب:زید اپنی بی بی ہندہ کو نکاحِ جدید کے ساتھ اپنی زوجیت میں لا سکتا ہے اور حلالہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ اگر اس نے خلع کے وقت خلع کا لفظ استعمال کیا ہے اور طلاق نہیں دی ہے اور نہ طلاق کی نیت کی ہے تو یہ خلع یا تو ایک طلاق بائن ہے،جیسا کہ بعض اہلِ علم کا مذہب ہے یا فسخ بلا طلاق ہے،جیسا کہ بعض دیگر اہلِ علم کا مذہب ہے اور ہر تقدیر پر حلالہ کی ضرورت نہیں،بلکہ نکاح جدید سے زید اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں لا سکتا ہے،لیکن اگر اس نے بلفظِ طلاق خلع کیا ہے یعنی خلع کے وقت اس نے اپنی بی بی کو طلاق دی ہے تو یہ خلع بالاتفاق طلاق ہے اور اس تقدیر پر بھی نکاح جدید سے اپنی بی بی کو اپنی زوجیت میں لا سکتا ہے۔زید نے اس اوقات بسری کے زمانے میں ہندہ سے جو صحبت کی ہے،سو اس گناہِ عظیم کا اس پر شرعاً کوئی مالی کفارہ نہیں ہے،ہاں اس کو لازم ہے کہ اس گناہ سے توبہ نصوح کرے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۳۹۴) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۵۸)