کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 430
اس عورت کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم آیا ہے؟ آیا اس کی وہ عورت بیٹھی رہے یا دوسرا نکاح کرے؟ جب اس شخص سے کہا جاتا ہے کہ تو طلاق دے تو وہ اجہل طلاق دینے سے انکار کرتا ہے۔جیسا کچھ حکم شرع شریف سے ہو،ویسا کیا جائے۔ جواب:صورتِ مسئولہ میں اس عورت کو چاہیے کہ حاکمِ وقت کے یہاں اس امر کی درخواست کرے کہ میرا شوہر عنین ہے،پھر وہ حاکم حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے فتوے کے موافق اس کے شوہر کو علاج کرنے کے لیے ایک برس کی مہلت دے۔اگر اس کا شوہر اس ایک برس کے اندر اچھا ہوگیا تو ٹھیک ہے،ورنہ وہ حاکم اس عورت اور اس کے شوہر میں تفریق کر دے،پھر تفریق کے بعد وہ عورت اپنا دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ حافظ ابن حجر درایہ تخریج ہدایہ (صفحہ:۲۳۱) میں لکھتے ہیں: ’’أما عمر فعند عبد الرزاق والدارقطني من روایۃ سعید بن المسیب قال:قضیٰ عمر رضی اللّٰه عنہ في العنین أن یؤجل سنۃ۔وأخرجہ ابن أبي شیبۃ من وجہ آخر عن سعید،وأخرجہ محمد بن الحسن في الآثار عن أبي حنیفۃ عن إسماعیل بن مسلم عن الحسن عن عمر۔۔۔إلی قولہ:وأخرجہ ابن أبي شیبۃ من وجہ آخر أحسن منہ عن الحسن عن عمر:یؤجل العنین سنۃ فإن وصل إلیھا وإلا فرق بینھما۔ومن طریق الشعبي أن عمر رضی اللّٰه عنہ کتب إلیٰ شریح:أن یؤجل العنین سنۃ من یوم یرفع إلیہ فإن استطاعھا وإلا فخیرھا۔۔۔إلی قولہ:وأما ابن مسعود فأخرجہ عبد الرزاق وابن أبي شیبۃ والدارقطني من طریق حصین بن قبیصۃ عنہ قال:یؤجل العنین سنۃ فإن جامع،وإلا فرق بینھما۔وفي الباب عن المغیرۃ بن شعبۃ أنہ أجل العنین سنۃ۔أخرجہ ابن أبي شیبۃ والدار قطني،وزاد في روایۃ:من یوم رافعتہ،ومن طریق الشعبي والنخعي وابن المسیب وعطاء والحسن قالوا:یؤجل العنین سنۃ‘‘[1] انتھی۔ [عبدالرزاق اور دارقطنی حضرت سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ اس کو ایک سال کی مہلت دی جائے۔ابن ابی شیبہ نے ایک دوسرے طریق سے اور محمد نے آثار میں ذکر کیا ہے کہ اگر اس عرصے میں وہ عورت سے جماع کرنے کے قابل ہوجائے تو فبہا،ورنہ عورت کو اختیار دے دیا جائے،اگر وہ چاہے تو اس کے گھر رہے،ورنہ ان میں جدائی کرا دی جائے اور یہ سال کی مہلت مقدمہ پیش ہونے کے بعد ہے] [1] الدرایۃ (۲/ ۷۸)