کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 43
کے مصارف و نفقات کی ذمے داری سنبھالے ہوئے ہیں۔‘‘[1] تلامذہ: حضرت مبارک پوری رحمہ اللہ کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے۔تاہم چندمشہور تلامذہ کے اسماے گرامی یہ ہیں: 1 مولانا عبد السلام مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۴۲ھ) 2 مولانا عبید اللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۴۱۴ھ) 3 مولانا نذیر احمد املوی رحمانی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۶۵ء) 4 مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۸۲ھ) 5 مولانا ابو النعمان عبد الرحمن آزاد مئوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۵۷ھ) 6 علامہ تقی الدین الہلالی المراکشی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۸۷ء) 7 مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۹۷ء) 8 مولانا عبد الغفار حسن عمر پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۲۰۰۷ء) 9 مولانا عبد الصمد حسین آبادی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۴۸ء) 10 مولانا حکیم محمد بشیر رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۸۸ھ)۔[2] مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ آپ کی تدریسی خدمات کے بارے میں رقمطراز ہیں: ’’حضرت مولاناعبد الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ کی عمر مبارک کے ۲۲،۲۳ سال درس و تدریس کی وادیوں میں گزرے اور اس اثنا میں مبارک پور،بستی،آرہ اور کلکتہ وغیرہ کی درسگاہوں میں انھوں نے جلیل القدر معلم کی حیثیت سے بے پناہ خدمات انجام دیں اور علما و طلبا کی کثیر تعداد نے ان سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔‘‘[3] ڈاکٹر بہاؤ الدین حفظہ اللہ مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ کی تدریسی خدمات کے متعلق لکھتے ہیں: ’’فراغت کے بعد اسی سال مدرسہ دار التعلیم کی بنیاد رکھی۔مبارک پور کے بعد پھر بلرام پور میں ایک مدرسہ قائم کیا اور کچھ عرصہ وہاں تعلیم دی۔پھر اللہ نگر ضلع گونڈہ کے مدرسے میں پڑھایا۔پھر مدرسہ سراج العلوم بونڈیہار میں گئے،جو آپ ہی کے لیے قائم کیا گیا تھا اور وہاں کچھ عرصہ پڑھایا۔پھر حافظ عبد اللہ غازی پوری رحمہ اللہ نے آپ کو مدرسہ احمدیہ آرہ میں طلب کر لیا۔کچھ عرصہ وہاں پڑھایا،پھر کلکتہ کے مدرسہ [1] مولانا عبد الرحمن محدث مبارک پوری رحمہ اللہ،حیات و خدمات،(ص:۸۳) [2] تراجم علماے حدیث ہند،(ص:۴۰۲) [3] دبستانِ حدیث،(ص:۱۸۸)