کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 428
إرسالہ،و بما ذکرناہ یعتضد مرسل أبي الزبیر،ولا سیما وقد قال الدارقطني:إنہ سمعہ أبو الزبیر من غیر واحد،کما ذکرہ المصنف۔ ’’قال الحافظ:فإن کان فیہم صحابي فھو صحیح وإلا فیعتضد بما ورد في معناہ،وأخرج عبد الرزاق عن علي أنہ قال:لا یأخذ منھا فوق ما أعطاھا،وعن عطاء و طاؤس والزھري مثلہ،وھو قول أبي حنیفۃ وأحمد وإسحاق۔۔۔وقال بعد ذکر روایۃ البیھقي عن أبي سعید الخدري المذکورۃ وفتویٰ عثمان رضی اللّٰه عنہ المذکورۃ ما لفظہ:لا یخفیٰ أن الروایات المتضمنۃ للنھي عن الزیادۃ مخصصۃ لھذا العموم (أي لعموم قولہ تعالیٰ:{فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ}) ومرحجۃ علیٰ تلک الروایات المتضمنۃ للتقریر لکثرۃ طرقھا،وکونھا مقتضیۃ للحصر،وھو أرجح من الإباحۃ عند التعارض علیٰ ما ذھب إلیہ جماعۃ من أئمۃ الاصول‘‘[1] انتھیٰ [اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ خلع حق مہر سے زیادہ لینا ناحق ہے اور اس کی تائید ابن عباس کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اپنا دیا ہوا لے لو اور زیادہ نہ لو (ابن ماجہ،بیہقی) ثوری کی روایت میں ہے کہ اپنے دیے ہوئے سے زیادہ لینا مکروہ ہے۔یہ حدیث مرسل ہے،لیکن اس کی تائید ابو الزبیر کی حدیث بھی کرتی ہے۔حضرت علی نے فرمایا:دیے ہوئے سے زیادہ نہ لے۔عطا،طاؤس،زہری،ابو حنیفہ،احمد،اسحاق کا یہی فتویٰ ہے۔ابو سعید خدری اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے فتوے کے بعد بیہقی نے لکھا ہے کہ جن روایتوں سے دیے ہوئے سے زیادہ لینے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے،یہ اس عموم کی مخصص ہیں،جو قرآن مجید میں ہے۔یہ روایات اس مضمون کو مرجح ثابت کر رہی ہیں اور یہ اباحت سے زیادہ راجح ہے،جبکہ ان میں تعارض ہو جائے۔ائمہ اصول کی ایک جماعت کا یہی قول ہے] چونکہ صورتِ مسئولہ میں ہندہ کی جانب سے نشوز ہے،جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے،اس لیے وہ نان و نفقہ گذشتہ کے لیے زید پر عدالت میں نالش نہیں کر سکتی۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب وإلیہ المرجع والمآب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین خلع کے بعد رجوع کرنا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک شخص نے اپنی ولایت سے ایک عورت کا نکاح ایک شخص سے [1] مصدر سابق۔ [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۷۴)