کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 426
جواب:صورتِ مسئولہ میں خلع جائز ہے۔قال اللّٰه تعالیٰ: {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ} [البقرۃ:۲۲۹] [اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم کو خوف ہو کہ وہ اﷲ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان پر گناہ نہیں ہے،اگر عورت کچھ فدیہ دے دے] عورت کا شوہر کو مال دے کر اپنے کو اس کی قیدِ نکاح سے آزاد و رہا کرنا یہی خلع ہے۔رہی یہ بات کہ شوہر کو خلع میں صرف بقدرِ مہر کے مال لینا چاہیے یا قدرِ مہر سے زیادہ بھی لینا درست ہے؟ سو واضح ہو کہ جمہور علما کے نزدیک قدرِ مہر سے زیادہ بھی لینا جائز ہے،اس واسطے کہ آیتِ مذکور مطلق ہے،اس میں اس بات کی قید نہیں ہے کہ خلع میں صرف بقدرِ مہر کے مال لینا چاہیے اور زیادہ لینا ناجائز ہے۔امام ابو حنیفہ و امام احمد رحمہم اللہ وغیرہما کے نزدیک قدرِ مہر سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے،ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ بعض روایات میں زیادہ لینے کی ممانعت آگئی ہے۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بعض روایتیں آیتِ مذکورہ کے عموم و اطلاق کی مخصص ہیں،پس صورتِ مسئولہ میں جبکہ ہندہ کے پاس کسی قسم کا مال و اسباب ہوتا تو بھی موافق ان بعض روایات کے زید کو قدرِ مہر سے زیادہ لینا نہیں چاہیے۔ہندہ کے باپ یا بھائی کو بدلِ خلع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جانبین کے حکم اگر ہندہ کے باپ یا بھائی سے جبراً و قہراً کل بدلِ خلع یا اس کا کچھ حصہ دلوائیں اور بر تقدیر نہ دینے کے اس کو مسلمانوں کی جماعت سے خارج کریں تو ان کا یہ صریح ظلم ہے۔جانبین کے حکم کو ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔جن لوگوں کے نزدیک خلع میں قدرِ مہر سے زیادہ لینا جائز ہے،ان کی دلیل آیتِ مذکورہ بالا ہے اور استدلال کی تقریر مذکور ہوچکی۔بیہقی کی ایک یہ روایت بھی ان کی دلیل ہے: ’’عن أبي سعید الخدري رضی اللّٰه عنہ قال:کانت أختي تحت رجل من الأنصار فارتفعا إلیٰ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال لھا:أتردین حدیقتہ؟ قالت:وأزیدہ۔فخلعھا فردت علیہ حدیقتہ،وزادتہ‘‘[1] [حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری ہمشیرہ ایک انصاری کے گھر تھی،وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر آئے۔آپ نے میری بہن سے کہا:کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی؟ کہنے لگی:میں زیادہ بھی دے دوں گی۔چناں چہ اس نے خلع کیا تو میری ہمشیرہ نے باغ بھی واپس کیا اور کچھ زیادہ بھی دیا] مگر یہ روایت ضعیف اور ناقابلِ حجت ہے۔کما صرح بہ الشوکاني في النیل (۶/ ۱۷۸) نیز حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ بھی ان کی دلیل ہے: ’’أخرج ابن سعد عن الربیع قالت:کان بیني وبین ابن عمي کلام،وکان زوجھا۔قالت:فقلت لہ:لک کل شيء وفارقني،وقال:قد فعلت،فأخذ و اللّٰه کل فراشي فجئت [1] سنن البیھقي (۷/ ۳۱۴) امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مرسل ہے۔