کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 424
خاوند پر حرام کیا،یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور آدمی سے نکاح کرے۔فدیہ کی طلاق کا ذکر کیا،یعنی خلع کا اور اسے تین طلاقوں میں شمار نہ کیا۔رجعی طلاق کا ذکر کیا اور فرمایا:طلاق دینے والا اس میں رجوع کا زیادہ حق دار ہے اور وہ ان تینوں اقسام سے الگ ہے۔یہی وجہ ہے کہ احمد اور شافعی نے دلیل پکڑی ہے کہ شریعت میں دخول کے بغیر عوض کے کوئی ایک طلاق بائن نہیں ہے،اگر اپنی عورت کو مرد ایک طلاق بائن دے تو بھی وہ رجعی ہوگی اور اس کے بائن ہونے کی صفت لغو ہوگی اور عوض کے بغیر مرد اس کو بائن نہیں کر سکے گا۔ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ مرد کو رجوع کا حق تھا اور اس نے اپنا حق ساقط کر دیا۔جمہور کہتے ہیں کہ اگرچہ اس کو رجوع کا حق تھا،لیکن رجعت کا خرچ اور کپڑا اس کے ذمے تھا،وہ اس حق کو ساقط کرنے کا اختیار عورت کی رضا مندی کے بغیر نہیں کر سکتا اور عورت بغیر عوض خلع کا سوال کرے اور اپنے خرچ اور لباس سے دستبردار ہوجائے،یہ نص کے خلاف ہے۔حاصل کلام یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے عورت کے لیے دو مقام کے علاوہ طلاق بائن نہیں رکھی۔ایک غیر مدخولہ کی طلاق اور دوسری قسم تیسری طلاق،ان کے علاوہ جتنی طلاقیں ہیں،ان میں مرد کو رجوع کا حق ہے اور یہی جمہور کا قول ہے۔امام احمد،شافعی اور اہلِ ظاہر کہتے ہیں کہ تین طلاقوں کے سوا مرد عورت کو بائن نہیں کر سکتا۔مالکیہ کے اس بارے میں تین قول ہیں کہ اگر مرد اپنی عورت سے کہے کہ تجھے ایسی طلاق جس میں رجوع نہیں ہے۔تیسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک رجعی طلاق ہے،ابن وہب کا بھی یہی قول ہے۔کتاب و سنت اور قیاس بھی اسی کی تائید کرتے ہیں اور اکثر کا یہی مذہب ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] عورت کو خلع کا اختیار حاصل ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے حق اس صورت میں کہ عمرو نے اپنی لڑکی ہندہ کا نکاح زید سے کیا۔عمرو نے زید کے حالات معلوم کرنے میں نہ تو خود کوشش کی اور نہ لڑکے کے والدین ہی نے اسے صحیح حالات سے آشنا کیا،بلکہ عمرو نے اس حد تک کوتاہی کی کہ زید کو نکاح سے پہلے سرسری نظر بھی نہیں دیکھا۔لڑکی لکھی پڑھی ہے،اسے والد کے انتخاب پر اعتماد تھا۔جب وہ اپنے سسرال میں آئی تو اس نے جب اپنے خاوند کو پہلی نگاہ دیکھا تو اس نے اس کے ساتھ آباد رہنے سے بالکل انکار کر دیا،چنانچہ خلوتِ صحیحہ تک بھی نوبت نہیں آئی اور ہندہ نے اس نکاح کی قبولیت سے کھلے طور پر انکار کر دیا۔اب عمرو (والد ہندہ) بھی اپنی فروگذاشت پر نادم ہے اور زید کے ورثا و رشتے دار بھی جانتے ہیں کہ ہندہ زید کے گھر آباد نہیں رہ سکے گی،لیکن عار یا ضد کے سبب وہ طلاق دینا نہیں چاہتے،باوجود [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۳)