کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 422
حررہ:عبدالحق ملتانی،عفی عنہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق جیسے زبانی طلاق جائز ہے،اسی طرح تحریری طلاق بھی جائز ہے۔صحیح بخاری میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم (( إن اللّٰه تجاوز عن أمتي ما حدثت بہ أنفسھا ما لم تعمل أو تکلم )) [1] [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اﷲ تعالیٰ نے میری امت سے دل کے خیالات کا محاسبہ معاف کر دیا ہے،جب تک ان پر عمل نہ کرے یا بول کر بیان نہ کرے] حافظ ابن حجر فتح الباری (۲۲/ ۱۸۰) میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’واستدل بہ علیٰ أن من کتب الطلاق طلقت امرأتہ لأنہ عزم بقلبہ وعمل بکتابتہ،وھو قول الجمھور،وشرط مالک فیہ الإشھاد علیٰ ذلک‘‘ انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ [اس حدیث سے دلیل لی گئی ہے کہ جو آدمی اپنی عورت کو لکھ کر طلاق دے تو وہ طلاق ہوجائے گی،کیوں کہ اس نے دل سے ارادہ کیا اور لکھنے کا عمل کیا۔جمہور کا یہی مذہب ہے،البتہ امام مالک گواہی کی شرط بھی لگاتے ہیں ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المباکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] طلاق کے بعد رجوع کی کیفیت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہند کو طلاقِ بائن دے دی اور بحالتِ قیام مذاکرہ و قرینہ طلاق یہ کہا کہ میں نے تجھ کو چھوڑا،میرا تیرا کچھ واسطہ نہیں۔اب زید مذکور اپنی مطلقہ بائنہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے،اب یہ نکاح عدت کے بعد درست ہوگا یا عدت کی اس میں ضرورت نہیں ؟ جواب:اگر عدت نہیں گزری ہے تو زید بلا نکاح کے رجوع کر سکتا ہے اور اگر عدت گزر گئی ہے تو نکاح کی ضرورت ہے۔یہ مسلک محدثین کا ہے،جبکہ فقہائے حنفیہ کے نزدیک چونکہ یہ طلاق،طلاقِ بائن ہے،لہٰذا ان کے مسلک پر ہر دو صورت میں نکاح کی ضرورت ہے۔واﷲ أعلم بالصواب۔ حررہ:السید عبدالحفیظ،عفي عنہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق واضح ہو کہ امام شافعی اور امام احمد وغیرہما کے نزدیک طلاقِ بائن واقع ہونے کی تین ہی صورتیں ہیں:ایک یہ کہ عورت کو قبل دخول کے طلاق دی جائے۔دوسری یہ کہ طلاق بالعوض دی جائے۔تیسری یہ کہ تین طلاقیں [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۹۶۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۲۷) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۷۳)