کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 42
دوسرے مدرسہ میں نہیں گئے،بلکہ تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے۔‘‘[1] حکومت سعودیہ اور دار الحدیث رحمانیہ دہلی کی طرف سے دعوتِ تدریس: مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ جب کلکتہ سے سلسلۂ تدریس ختم کرنے کے بعد اپنے وطن مبارک پور تشریف لے گئے اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوئے توسلطان عبدالعزیز بن عبد الرحمن والیِ سعودی عرب نے ان کو حرم پاک (مکہ مکرمہ) میں درسِ حدیث کے لیے دعوت دی،لیکن آپ اس وقت جامع ترمذی کی شرح لکھ رہے تھے،اس لیے معذرت کر دی اور سلطان ابن سعود کی خدمت میں تحریراً یہ جواب ارسال کیا کہ میں اس وقت جامع ترمذی کی شرح لکھنے میں مصروف ہوں،اس لیے میرا سعودی عرب آنا مشکل ہے۔ اسی طرح دار الحدیث رحمانیہ دہلی کے مہتمم شیخ عطاء الرحمن مرحوم نے آپ کو شیخ الحدیث کے منصب پر فائز کرنے کی گراں قدر مشاہرے پر پیشکش کی،مگر آپ نے اس پیشکش کو بھی قبول نہ کیا اور ان سے معذرت کر لی۔[2] جامعہ سراج العلوم بونڈیہار: ۱۹۰۷ء میں کنڈو بونڈیہار کے سربرآورہ اشخاص مولانا محدث مبارک پوری رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور ایک دینی درسگاہ کی بنیاد رکھیں اور طلبا کو قرآن و حدیث کی تعلیم دیں۔محدث مبارک پوری اس وقت مدرسہ اللہ نگر میں تدریس فرما رہے تھے۔چنانچہ مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ کنڈو بونڈیہار تشریف لے گئے اور جامعہ سراج العلوم کی بنیاد ڈالی اور طلبا کو قرآن و حدیث،فقہ اور دوسرے علومِ اسلامیہ کادرس دینے لگے۔ شیخ الحدیث مولانا ابو الحسن عبید اللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۴۱۴ھ) مدرسہ سراج العلوم کے بارے لکھتے ہیں: ’’اس جامعہ کی بنیاد ۱۹۰۷ء میں مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ کے ہاتھوں پڑی،پھر سید میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے تلامذہ میں سے مولانا ابو الہدیٰ عبدالسلام مبارک پوری رحمہ اللہ مولف سیرۃالبخاری اور مولانا محمد سلیمان مئوی رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیتیں جامعہ کے منصبِ اشراف و تدریس پر یکے بعد دیگرے فائز رہیں۔راقم سطور نے بھی اس جامعہ کے دامن میں اپنی زندگی کا ایک حصہ گزارا ہے اور اس کے چشمہ علمی سے سیرابی حاصل کی ہے اور عرصہ سے بحیثیت سرپرست اس سے متعلق ہے۔یہ بات باعثِ شکر و امتنان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کے ایک ہی خاندان کو یہ توفیق بخشی ہے کہ وہ آغازِ جامعہ سے اب تک اس [1] تذکرہ علماے اعظم گڑھ،(ص:۱۴۵) [2] دبستانِ حدیث،(ص:۱۸۷)