کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 418
طلاقِ بائن کس کو کہتے ہیں ؟ سوال:طلاقِ بائن کس کو کہتے ہیں ؟ جواب:طلاقِ بائن اس طلاق کو کہتے ہیں جس کے بعد رجعت جائز نہ ہو۔طلاقِ بائن صرف تین صورتوں میں ہوتی ہے:ایک یہ کہ تین طلاقیں تین طہر میں دی جائیں،پس تیسری طلاق کے بعد رجعت جائز نہیں۔دوسری یہ کہ قبل دخول کے طلاق دی جائے،اس صورت میں بھی رجعت جائز نہیں۔تیسری یہ کہ عورت سے کچھ مال لے کر طلاق دی جائے جس کو خلع کہتے ہیں،اس صورت میں بھی رجعت جائز نہیں ہے۔ہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک طلاق اور دو طلاق دخول کے بعد جس صورت سے دی جائے گی،رجعی ہی ہوگی،اگرچہ بقید بینونت دی جائے،یعنی مثلاً:یوں کہا جائے کہ ’’أنتِ طالق طلقۃ بائنۃ‘‘ یا ’’أنتِ طالق طلاقا بائنا‘‘ یا ’’أنتِ بائن‘‘ تب بھی طلاق رجعی ہی ہو گی۔یہی جمہور کا مذہب ہے اور یہی حق ہے۔اسی طرح تین طلاقیں اگر ایک جلسے میں دی جائیں،تب بھی طلاق رجعی ہی واقع ہوگی،یہی حق ہے۔دیکھو:زاد المعاد (۲/ ۲۱۴ و ۲۱۵) واﷲ تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین طلاقِ معلق کا حکم: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین احمدی و واقفانِ شرع محمدی اس مسئلے میں کہ ایک شخص خواندہ نے اپنی عورت کو اسٹامپ کاغذ پر طلاق معلق بدو امر لکھ دی،بایں لفظ کہ بشرط بخشیدن حق مہر و عقد کفویک طلاق۔پھر وہ شخص عدالت میں طلب کیا گیا اور عدالت میں اظہار دیا کہ میں نے بشرط عقد کفو و بخشیدن مہر طلاق معلق بدو امر،ہر دو امر کے وجود پر موقوف ہوگی یا ایک کے وجود سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ جواب:جمہور فقہا لکھتے ہیں: ’’المعلق بالشرط عدم قبول وجود الشرط‘‘ کذا في فتاویٰ قاضی خان والأشباہ والنظائر۔[2] [شرط کے ساتھ معلق کرنا وجودِ شرط کا عدمِ قبول ہے] قدوری میں لکھا ہے:’’وإذا أضافہ (أي الطلاق) إلی شرط وقع عقب الشرط‘‘[3] [جب وہ طلاق کو کسی شرط کی طرف مضاف کرے تو شرط کے بعد وہ واقع ہو گی] پس جب تک ہر دو امر موجود نہ ہوں،طلاق واقع نہ ہوگی۔فقہ میں یہ مسئلہ اظہر من الشمس ہے۔واللّٰه أعلم [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۷) [2] فتاویٰ قاضی خان (۱/ ۲۴۶) الأشباہ والنظائر (ص:۲۰۴) [3] المختصر للقدوري (ص:۸۸)