کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 417
کیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کا معنی جنون کیا ہے] ثم قال:’’قال شیخنا:وحقیقۃ الإغلاق أن یغلق علی الرجل قلبہ،فلا یقصد الکلام أو لا یعلم بہ،کأنہ انغلق علیہ قصدہ وإرادتہ‘‘ [ہمارے شیخ نے کہا:اِغلاق کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے لیے اس کا دل بند کر دیا جائے،پس وہ کلام کا قصد کرے نہ اس کا مفہوم جانے،گویا اس پر اس کا قصد و ارادہ بند ہوگیا] ’’قلت:قال أبو العباس المبرد:الغلق ضیق الصدر وقلۃ الصبر،بحیث لا یجد لہ مخلصا۔قال شیخنا:ویدخل في ذلک طلاق المکرہ والمجنون،ومن زال عقلہ بسکر أو غضب،وکل من لا قصد لہ ولا معرفۃ لہ بما قال،والغضب علی ثلاثۃ أقسام:أحدھا:ما یزیل العقل فلا یشعر صاحبہ بما قال،وھذا لا یقع طلاقہ بلا نزاع،والثاني:ما یکون في مبادیہ بحیث لا یمنع صاحبہ من تصور ما یقول،وقصدہ،فھذا یقع طلاقہ۔الثالث:أن یستحکم ویشتد بہ فلا یزیل عقلہ بالکلیۃ،ولکن یحول بینہ وبین نیتہ بحیث یندم علی ما فرط منہ إذا زال،فھذا محل نظر،و عدم الوقوع في ھذہ الحالۃ قوي متجہ‘‘ واللّٰه أعلم بالصواب (زاد المعاد،مطبوعہ نظامي:۲/۲۰۴) [میں کہتا ہوں کہ ابو العباس المبرد نے کہا:غلق کا معنی ہے سینے کا تنگ ہونا اور صبر کا کم ہونا،اس طور پر کہ اس سے نجات کا کوئی وسیلہ نہ ہو۔ہمارے شیخ نے کہا:اس کے مفہوم میں مجبور و مجنون کی طلاق بھی داخل ہے اور اس کی بھی جس کی عقل نشے اور غصے سے زائل ہوچکی ہو،نیز اس کی جس کا کوئی قصد و ارادہ ہو اور نہ اسے یہ سمجھ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔غضب اور غصے کی تین قسمیں ہیں:ایک قسم تو یہ ہے جو عقل کو اس طرح زائل کرتی ہے کہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کیا کہا ہے؟ اس صورت میں تو بلا نزاع طلاق واقع نہیں ہوتی۔دوسری قسم وہ ہے کہ غصہ اس شخص کو اپنے قول و قصد کے تصور اور سمجھ سے نہ روکے تو اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی۔تیسری قسم یہ ہے کہ اس کا غصہ مستحکم اور شدید تو ہو مگر اس سے اس کی عقل کلیتاً زائل نہ ہو،لیکن وہ اس کے اور اس کی نیت کے درمیان اس طرح حائل ہو جائے کہ اسے غصہ زائل ہونے کے بعد اپنی اس زیادتی پر ندامت ہو تو یہ محلِ نظر ہے اور اس حالت میں طلاق کا عدمِ وقوع زیادہ قوی اور مناسب ہے] کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔صح الجواب،واللّٰه أعلم بالصواب۔أبو الفیاض محمد عبد القادر أعظم گڈھی مئوي۔أبو العلیٰ محمد عبد الرحمن،عفي عنہ۔[1] [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوري (ص:۵۴۲)