کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 416
’’بہ أخذ من لا یوقع الطلاق والعتاق من المکرہ،وھو مالک والشافعي وأحمد،وعندنا یصح طلاقہ وإعتاقہ ونکاحہ قیاساً علیٰ صحتھا مع الھزل‘‘[1] انتھی،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [اسی کو دلیل بنایا ہے اس نے جو مجبور کی طرف سے طلاق اور آزادی کو نافذ نہیں کرتا۔امام مالک،شافعی اور احمد کا بھی یہی قول ہے اور ہمارے نزدیک مذاق کے ساتھ اس کے وقوع ہونے پر قیاس کرتے ہوئے اس کا طلاق دینا،آزاد کرنا اور نکاح کرنا درست ہے] أملاہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ غصے کی حالت میں طلاق کا حکم: سوال:محض گالی دینے کے سبب ہندہ کے طلاق طلاق طلاق کا لفظ بلا اشارہ کے بمقابلہ ایک کر کے بحالت غصہ شوہر ہندہ کے زید کے منہ سے نکل گیا۔آیا اس امر میں اوپر ہندہ کے طلاق بائن عائد ہوگا یا نہیں ؟ اس کا جواب کماحقہ بدلائل قرآن و حدیث کے مرحمت فرمایا جائے۔ جواب:اس صورت میں ہندہ پر طلاقِ بائن تو عائد نہیں ہوئی،لیکن طلاقِ رجعی عائد ہوئی یا نہیں ؟ اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے،وہ یہ کہ اگر زید کے منہ سے یہ الفاظ بحالتِ غصہ بلا قصد نکل گئے تھے تو اس صورت میں طلاق رجعی بھی نہیں ہوئی۔اگر بالقصد نکلے تھے تو اگر اس وقت زید کی نیت ہندہ کے طلاق دینے کی نہ تھی تو بھی رجعی نہیں ہوئی اور اگر اس وقت ہندہ کے طلاق دینے کی نیت تھی تو طلاق رجعی عائد ہوئی،جس میں زید کو اختیار ہے کہ عدت کے اندر اس طلاق کو واپس کر لے،لیکن اگر عدت گزر چکی ہو اور تجدیدِ نکاح پر دونوں راضی ہوں تو تجدیدِ نکاح کر لے۔ ’’عن صفیۃ بنت شیبۃ قالت:سمعت عائشۃ رضی اللّٰه عنہا تقول:سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول:( لا طلاق ولا عتاق في إغلاق )) قال أبو داود:الغلاق أظنہ الغضب‘‘[2] [صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے،انھوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اِغلاق میں نہ طلاق ہے اور نہ غلام کو آزاد کرنا۔‘‘ امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں:میرا خیال ہے کہ غلاق سے مراد غضب و غصہ ہے] ’’وقد فسر الإغلاق بالغضب الإمام أحمد أیضاً،وفسرہ أبو عبید وغیرہ بالإکراہ،وفسرہ آخرون بالجنون‘‘[3] کذا قال الحافظ ابن القیم في زاد المعاد (ص:۲۰۳) [امام احمد رحمہ اللہ نے بھی اِغلاق کا معنی غضب و غصہ بیان کیا ہے۔ابو عبید وغیرہ نے اس کا معنی جبر و اِکراہ [1] مرقاۃ المفاتیح (۱۰/ ۲۱۴۰) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۱۹۳) [3] زاد المعاد (۵/۱۹۵)