کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 415
’’قال السبکي لیس فیھا (أي في لفظۃ:حتی یکبر) من البیان،ولا في قولہ:حتی یبلغ۔ما في الروایۃ الثالثۃ:حتی یحتلم،فالتمسک بھا أولیٰ لبیانھا وصحۃ سندھا،وقولہ:حتی یبلغ۔مطلق،والاحتلام مقید،فیحمل علیہ،فإن الاحتلام بلوغ قطعا،و عدم بلوغ خمسۃ عشر لیس ببلوغ قطعا۔قال:وشرط ھذا الحمل ثبوت اللفظین عنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘ انتھیٰ ھذا ما عندي،واللّٰه تعالی أعلم۔ [سبکی نے کہا:اس لفظ ’’یہاں تک کہ بڑا ہوجائے‘‘ میں بیان نہیں ہے،نہ ہی دوسری روایت کے الفاظ ’’یہاں تک کہ بالغ ہوجائے‘‘ میں بیان ہے۔تیسری روایت میں الفاظ یہ ہیں:’’یہاں تک کہ اسے احتلام ہوجائے‘‘ ان آخری الفاظ سے تمسک زیادہ اچھا ہے اور اس کی سند بھی اچھی ہے اور ’’یہاں تک کہ بڑا ہوجائے‘‘ یہ عام ہے اور احتلام والی روایت خاص ہے تو پہلی کو اس روایت پر محمول کیا جائے گا،کیوں کہ احتلام سے بلوغت قطعی ہے اور پندرہ سال تک نہ پہنچنا،بلوغ قطعی نہیں ہے،نیز انھوں نے کہا ہے کہ اس معنی پر محمول کرنے کی شرط دونوں لفظوں کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونا ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المباکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] حالتِ جبر میں طلاق واقع نہیں ہوتی: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک شخص اپنی بی بی کو نہ تو اپنے ہمراہ رکھتا تھا نہ اس کے نان نفقہ کا کفیل تھا نہ اسے طلاق دیتا تھا۔آخر عزیزان بی بی مذکورہ نے اسے اپنے قبضے میں پاکر زبردستی طلاق دلوا لیا،یعنی مارنے پیٹنے کی دھمکی دی اور چاقو دکھلایا تو شوہر نے طلاق اس لفظ کے ساتھ دے دیا کہ میں نے فلاں بنت فلاں کو طلاق دے دیا۔تین دفعہ یہ الفاظ بروئے سات آدمی کے کہے،لہٰذا ازروئے شرع شریف طلاق پڑ گئی یا نہیں ؟ جواب بحوالہ حدیث بہتر ہے۔ جواب:صورتِ مسئولہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک طلاق واقع ہوگئی،لیکن امام مالک،امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوئی اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔مشکاۃ شریف میں ہے: ’’عن عائشۃ قالت:سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول:لا طلاق ولا عتاق في إغلاق‘‘[2] [عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،کہتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:زبردستی میں نہ طلاق ہوتی ہے نہ غلام آزاد ہوتا ہے] اس حدیث کی شرح میں ملا علی قاری شرح مشکاۃ میں لکھتے ہیں: [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۶۸) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۱۹۳) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۴۶)