کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 414
یہ دونوں چیزیں ایک تمیز والے بچے کو حاصل ہوجاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ابن مسیب،ابن عمر،احمد وغیرہم نے کہا ہے کہ تمیز والے عقل مند بچے کی طلاق جو طلاق کے مفہوم کو سمجھ سکتا ہو،طلاق واقع ہوجاتی ہے یا اس بچے کی جو نماز اور روزے کی طاقت رکھتا ہو] رہا دوسرا مسئلہ،یعنی یہ کہ لڑکے کی طرف سے اس کے ولی کی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟ سو اس مسئلے میں بھی اختلاف ہے۔جمہور کے نزدیک نہیں واقع ہوتی ہے اور بعضے کہتے ہیں واقع ہوتی ہے،مگر حق بجانب جمہور ہے۔ابن ماجہ کی حدیث مرفوع:(( الطلاق لمن أخذ بالساق )) [1] [طلاق دینا تو اسی کا حق ہے جس نے پنڈلی کو پکڑا ہو] جمہور کے قول پر واضح دلیل ہے اور اس کے خلاف میں کوئی دلیل نہیں معلوم ہوئی۔واﷲ أعلم بالصواب۔ حررہ:السید شریف حسین،عفی عنہ۔ الأمر کذلک۔سید محمد نذیر حسین،عفی عنہ۔ هو الموافق بے شک حق بجانب جمہور ہے۔حدیث:(( الطلاق لمن أخذ بالساق )) کے متعلق علامہ شوکانی لکھتے ہیں: ’’وطرقہ یقوي بعضھا بعضا،وقال ابن القیم:إن حدیث ابن عباس؛ أي الطلاق لمن أخذ بالساق۔وإن کان في إسنادہ ما فیہ،فالقرآن یعضدہ،وعلیہ عمل الناس۔وأراد بقولہ:القرآن یعضدہ۔نحو قولہ تعالیٰ:{اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ} وقولہ تعالیٰ:{اِِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَآئَ} الآیۃ‘‘[2] انتھیٰ کلامہ۔ [اس کے بعض طرق بعض کو تقویت دیتے ہیں۔ابن قیم نے کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کی سند میں اگرچہ کچھ گفتگو ہے،لیکن قرآن اور لوگوں کا تعامل اس کو تقویت دیتے ہیں۔انھوں نے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو،پھر ان کو طلاق دو‘‘ اور ’’جب تم عورتوں کو طلاق دو‘‘] پس یہ حدیث جمہور کے قول کے لیے کافی دلیل ہے اور پہلے مسئلے میں بھی حق بجانب جمہور ہی ہے،اس واسطے کہ جامع ترمذی کی حدیث:(( کل طلاق جائز۔۔۔الخ )) اگرچہ ضعیف ہے،مگر دوسری حدیث یعنی:(( رفع القلم عن ثلاثۃ۔۔۔الخ )) ضعیف نہیں ہے،بلکہ حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے (دیکھو:بلوغ المرام،باب الطلاق[3]) ابو داود اور منذری نے اس پر سکوت کیا ہے،نیز اس حدیث کی بعض روایات میں بلوغ بالاحتلام کی تصریح آگئی ہے۔دیکھو:سنن أبي داود:کتاب الحدود،باب في المجنون یسرق أو یصیب حدا۔[4] عون المعبود (۴/ ۲۴۳) میں ہے: [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۸۱) [2] نیل الأوطار (۷/ ۱۵) [3] المستدرک (۲/ ۵۹) بلوغ المرام (۱۰۹۶) [4] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۴۰۱)