کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 413
عن علي:لا یجوز علی الغلام طلاق حتی یحتلم‘‘ انتھیٰ۔واللّٰه أعلم [ابن ابی شیبہ نے عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کی ہے:بچے کی طلاق جائز نہیں ہے۔عبدالرزاق نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:بچے کے بالغ ہونے تک اس کی طلاق جائز نہیں ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔ نابالغ لڑکے اور اس کے ولی کی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟ سوال:نابالغ لڑکے کی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں اور اس کی طرف سے اس کے ولی کی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟ جواب:نابالغ لڑکے کی طلاق کے وقوع و عدمِ وقوع میں اختلاف ہے۔جمہور کے نزدیک نابالغ لڑکے کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔دلیل ان کی جامع ترمذی کی یہ حدیث ہے:(( کل طلاق جائز إلا طلاق المعتوہ المغلوب علیٰ عقلہ )) [1] [ہر ایک کی طلاق جائز ہے،ماسوائے مغلوب العقل کے] یہ حدیث بظاہر صبی کو بھی شامل ہے،نیز جمہور کی دلیل یہ حدیث بھی ہے: ’’رفع القلم عن ثلاثۃ:عن النائم حتیٰ یستیقظ،و عن الصبي حتی یبلغ،وعن المعتوہ حتی یعقل‘‘[2] [تین آدمیوں سے قلم اُٹھا لیا گیا ہے:سوئے ہوئے سے،جب تک جاگ نہ اُٹھے اور بچے سے جب تک بالغ نہ ہوجائے اور مغلوب العقل سے جب تک وہ باشعور نہ ہو جائے] بعض علما کے نزدیک صبی ممیز عاقل کی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔یہ لوگ پہلی حدیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے،جیسا کہ ترمذی نے اس کی تصریح کی ہے اور دوسری حدیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث میں بلوغ بالاحتلام کی تصریح نہیں ہے اور لفظ ’’یبلغ‘‘ سے مراد کبر و عقل ہے اور صبی ممیز میں یہ بات حاصل ہوتی ہے: ’’وأما حدیث أبي داود وغیرہ:(( رفع القلم عن ثلاثۃ:عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبي حتی یبلغ۔۔۔الخ )) فلیس بنص في البلوغ بالاحتلام،بل الحد فیہ الکبر والعقل،وھما یحصلان للطفل العاقل الممیز،ولذا قال ابن المسیب وابن عمر و أحمد وغیرھم بوقوع طلاق الطفل العاقل الممیز المعارف للطلاق أو القادر علیٰ الصوم والصلاۃ‘‘ کما في شرح بلوغ المرام و شرح القسطلاني۔ [یہ حدیث بلوغ بالاحتلام کے لیے نص نہیں ہے،بلکہ اس میں حد بڑا ہونے اور سمجھ دار ہونے کی ہے اور [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۹۱) اس کی سند میں ’’عطاء بن عجلان‘‘ راوی متروک ہے۔ [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۴۰۱) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۴۲۳)