کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 412
جواب:صورتِ مسئولہ میں عند الحنفیہ دختر مذکورہ مطلقہ بائنہ ہوگئی۔وہ بکر کے نکاح میں نہیں رہی اور بکر کو مہر ادا کرنا ضروری ہے،مگر حدیث کی رو سے دختر مذکورہ مطلقہ نہیں ہوئی،بلکہ بکر کے نکاح میں باقی ہے،اس واسطے کہ نکاح سے قبل جو طلاق دی جائے،منجنر ہو یا کسی شرط پر معلق ہو،وہ واقع نہیں ہوتی،نہ فی الحال واقع ہوتی ہے اور نہ شرط کے پائے جانے کے بعد،بلواغ المرام میں ہے: ’’عن جابر رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( لا طلاق إلا بعد نکاح،ولا عتق إلا بعد ملک )) رواہ أبو یعلي وصححہ الحاکم،وھو معلول،وأخرجہ ابن ماجہ عن المسور بن مخرمۃ مثلہ،وإسنادہ حسن،لکنہ معلول أیضا‘‘[1] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور ملک سے پہلے آزادی نہیں۔علامہ ابن حجر نے کہا:یہ حدیث معلول ہے۔یہ روایت مسور بن محزم سے بھی مروی ہے،لیکن وہ بھی معلول ہے] قال في سبل السلام:’’حدیث الباب وإن کان فیہ مقال من قبل الإسناد فھو متائید بکثرۃ الطرق‘‘ انتھیٰ۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ [سبل السلام میں کہا ہے:اس باب کی حدیث اگرچہ اسناد کے اعتبار سے اس میں مقال ہے،مگر کثرتِ طرق کے ساتھ اس کی تائید ہوتی ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین نابالغ کی طلاق کا حکم: سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے میں کہ نابالغ کی طلاق واقع ہوتی ہے؟ جواب حدیث سے دیا جائے۔ جواب:نابالغ لڑکے کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔بلوغ المرام میں ہے: ’’عن عائشۃ رضی اللّٰه عنہا،عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:رفع القلم عن ثلاثۃ:عن النائم حتی یستیقظ،وعن الصغیر حتی یکبر،وعن المجنون حتی یعقل أو یفیق‘‘[3] درایہ تخریجِ ہدایہ (ص:۲۲۶) میں ہے: ’’رویٰ ابن أبي شیبۃ،عن ابن عباس موقوفاً:لا یجوز طلاق الصبي۔ورویٰ عبد الرزاق [1] المستدرک (۲/ ۲۰۴) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۴۸) تفصیل کے لیے دیکھیں:إرواء الغلیل (۷/۱۵۱) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۶۱) [3] مسند أحمد (۱/ ۱۱۶) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۳۹۸) سنن النسائي،رقم الحدیث (۳۴۳۲) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۴۱) المستدرک للحاکم (۲/ ۶۷)