کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 411
کو یوں کہا کہ میں نے اپنی زوجہ کو تین طلاق دیں،لیکن میری مرضی نہیں تھی اور نہ بی بی گھر میں تھی،بی بی اپنی والدہ کے گھر میں تھی۔میں نے ایک پرچہ پر تین طلاقیں تحریر کر کے دے دیں،لیکن زبان سے نہیں کہا اور نہ زبان پہ لاکر لکھا۔صرف ذہن کے خیال سے لکھ دیا۔آیا اس صورت میں طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟ جواب:اس صورت میں طلاق واقع ہوگئی،مگر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی۔صحیح بخاری میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:إن اللّٰه تجاوز عن أمتي ما حدثت بہ أنفسھا ما لم تعمل أو تکلم۔قال قتادۃ:إذا طلق في نفسہ فلیس بشییٔ‘‘[1] [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ نے میری امت سے خیالات کو معاف کر دیا،جب تک ان پر عمل نہ ہو یا کلام نہ کرے قتادہ نے کہا:اگر دل میں طلاق دے تو کوئی چیز نہیں ہے] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت میں لکھتے ہیں: ’’واستدل بہ علیٰ أن من کتب الطلاق طلقت امرأتہ،لأنہ عزم بقلبہ،وعمل بکتابہ،وھو قول الجمھور،وشرط مالک فیہ الإشھاد علیٰ ذلک‘‘[2] انتھیٰ [اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ جو اپنی عورت کو لکھ کر طلاق دے،اس کی طلاق ہوجائے گی،کیوں کہ اس نے دل سے ارادہ کیا اور لکھ کر عمل کیا۔جمہور کا یہی قول ہے اور امام مالک اس پر شہادت کی شرط زیادہ کرتے ہیں ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔[3] سید محمد نذیر حسین کیا نکاح سے قبل طلاق واقع ہوجاتی ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح ہمراہ بکر کے اس اقرار سے کیا کہ جب تک میرے گھر رہے گا،تب تک میری لڑکی نکاح میں رہے گی اور جب کہیں چھوڑ کر دوسری جگہ بود و باش اختیار کرے گا،یہی طلاق بائنہ ہے۔سو بکر نے یہ اقرار منظور کر لیا اور قبل نکاح کے اسٹامپ پر اقرار نامہ مع ان شرائط کے بکر نے لکھ دیا اور نکاح کر لیا۔عرصہ دس بارہ یوم تک بکر زید کے گھر رہا،پھر اپنی خوشی سے دوسری جگہ جا کر سکونت پذیر ہوا،جس کو ایک سال کا عرصہ گزرا اور بی بی کے لینے کا تقاضا کرتا ہے۔آیا وہ لڑکی نزدیک شرع شریف کے اس کے نکاح میں رہی یا نہیں اور اگر نہیں رہی تو مہر اس دختر کا پہنچتا ہے یا نہیں ؟ نیز یہ بھی واضح ہو کہ بکر شیعہ مذہب ہے؟ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۹۶۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۲۷) [2] فتح الباري (۹/ ۳۹۴) [3] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۷)