کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 410
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عبدالکریم نامی ایک شخص نے اپنی عورت فاطمہ بی بی کو ۲۷/ ماہ صفر ۱۳۱۷ ہجری کو طلاق دی۔بعد ماہ دو ماہ کے جماعت سے طلب کیا کہ میری عورت کو میرے سپرد کر دو۔جماعت سے جواب دیا گیا کہ عدت اور دوسرے شخص سے نکاح کے بغیر تیرے سپرد نہیں ہوسکتی۔یہ بات سن کر وہ شخص چلا گیا اور من بعد اسی عورت کو بلا کر کسی اور قریہ میں جا کر ہندی رسالہ پڑھنے والے ملا کو رشوت دے کر محمد بڈھن صاحب غیر آدمی سے جمادی الثانی کی پہلی تاریخ کو نکاح پڑھا دیا،لیکن عورت و مرد میں گفتگو نہ ہونے کے خیال سے عورت کو دو روز چھپا رکھا۔تیسرے دن بڈھن صاحب کو پکڑ کر ظلم و زبردستی سے طلاق دلوا کے اول مرد عبد الکریم سے اس روز نکاح کر دیا،پس ازروئے قرآن و حدیث کے یہ نکاح جائز ہوا یا نہیں ؟ جواب:صورتِ مسئولہ سے واضح ہوتا ہے کہ عبد الکریم نے اپنی عورت فاطمہ بی بی کو ایک طلاق دی تھی،پس جماعت والوں کا یہ کہنا کہ عدت اور بغیر نکاح دوسرے شخص سے نکاح کے بغیر تیرے سپرد نہیں ہوسکتی،بالکل غلط ہے۔یہ ہر دو نکاح لغو و باطل ہیں،کیونکہ جب اس نے اپنی عورت کو طلب کیا اور اس کو اپنی طرف منسوب کیا تو رجعت ثابت ہوگئی،کیونکہ یہ انتساب منجملہ کنایاتِ رجعت ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’والکنایات:أنتِ عندي کما کنتِ،وأنتِ امرأتي،فلا یصیر بھا مراجعاً إلا بالنیۃ‘‘[1] اھ [رجوع بالکنایہ یہ ہے کہ مثلاً کہے:تو میرے لیے ویسی ہی ہے،جیسے پہلے تھی اور تو میری بیوی ہے،اس میں اگر نیت ہوگی تو رجوع ہوگا،ورنہ نہیں ] ظاہر ہے کہ اس کا مطالبہ اس امر پر دال ہے کہ اس کی نیت رجوع کی تھی،پس جب رجعت ثابت ہوگئی تو یہ دونوں نکاح باطل و لغو ہیں اور وہ عورت عبد الکریم کی ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ حررہ:محمد عبدالحق ملتانی (۱۹/ شعبان ۱۳۱۷ ہجری) هو الموافق اگر عبدالکریم نے اپنی عورت فاطمہ بی بی کو تین طلاقیں ایک مجلس میں دی تھیں تب بھی وہی حکم ہے،جو مجیب نے لکھا ہے،کیونکہ تین طلاقیں ایک مجلس میں حدیث صحیح کے موافق طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین طلاق لکھنے سے واقع ہوجاتی ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے چند شخصوں کے کہنے سننے سے حالتِ غصہ میں آکر اپنی بی بی [1] الفتاویٰ الھندیۃ (۱/ ۴۶۸) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۶۰)