کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 409
امرأتہ ثلاثا في مجلس واحد فلذا رجح أبو داود حدیث البتۃ،ولم یتعرض لھذا الحدیث،ولا رواہ في سننہ،ولا ریب أنہ أصح من الحدیثین،وحدیث ابن جریج شاھد لہ وعاضد،فإذا انضم حدیث أبي الصھباء إلیٰ حدیث ابن إسحاق وإلیٰ حدیث ابن جریج مع اختلاف مخارجھا وتعدد طرقھا،أفاد العلم بأنھا أقوی من البتۃ بلا شک،ولا یمکن مَن شمَّ روائح الحدیث،ولو علیٰ بعد،أن یرتاب في ذلک،فکیف یقدم الحدیث الضعیف۔الذي ضعفہ الأئمۃ ورواتہ مجاھیل۔علیٰ ھذہ الأحادیث؟‘‘[1] انتھیٰ کلام ابن القیم۔واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ [ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دی دے،پھر اس کے بعد ان کو اس پر بڑا افسوس ہوا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:تم نے کیسے طلاق دی؟ کہنے لگا:میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک ہی مجلس میں ؟ کہا:ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تو یہ ایک طلاق ہے،اگر تو چاہے تو اس سے رجوع کر لے۔چناں چہ اس نے رجوع کر لیا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما ہر طہر میں ایک طلاق کے قائل تھے۔امام ابن قیم ’’إعلام الموقعین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ امام احمد نے اس سند کو صحیح کہا ہے۔حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ اس کو احمد اور ابو یعلی نے بھی روایت کیا ہے اور اس کو ابن اسحاق کے طریق سے صحیح کہا ہے اور یہ حدیث اس مسئلے میں نص ہے،جس کی تاویل نہیں ہو سکتی۔اگر اس میں یہ شبہہ پیدا کیا جائے کہ رکانہ کے گھر والے کہتے ہیں کہ رکانہ نے طلاق بتہ دی تھی اور ہو سکتا ہے کہ بتہ کو تین طلاق سمجھ لیا گیا ہو۔اس کا جواب یہ ہے کہ ابوداود نے بتہ طلاق والی حدیث کو ابن جریج کی حدیث پر ترجیح دی ہے،اس لیے کہ موخر الذکر کی سند میں چند ایک مجہول راوی ہیں،لیکن ابو داود نے مسند احمد میں روایت کردہ محمد بن اسحاق کی روایت کو ذکر نہ کیا،جس میں صاف لفظ ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور اس میں تو کوئی شبہہ ہی نہیں کہ محمد بن اسحاق کی روایت کی سند ان دونوں باتوں سے زیادہ بہتر ہے اور ابن جریج کی حدیث اس کی شاہد ہے،پھر اگر ابو صہباء کی حدیث کو بھی ان سے ملا دیا جائے تو اس کی سند سب سے زیادہ قوی ہوجائے گی۔پھر دوسری روایت،جس میں بتہ طلاق کا تذکرہ ہے،اس کو تین طلاق پر ہی محمول کرنا چاہیے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ ابو الطیب محمد شمس الحق سید محمد نذیر حسین[2] [1] إغاثۃ اللھفان (۱/ ۳۱۶) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۹)