کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 407
تیسری طلاق مراد ہے اور زینب کا اگرچہ نام نہیں لیا،مگر قرینہ ظاہرہ سے زینب کا مراد ہونا متعین ہے۔طلاق،رجعت اور نکاح؛ یہ تینوں چیزیں بغیر نیت کے بھی ثابت ہوجاتی ہیں۔بلوغ المرام میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( ثلاث جدھن جد،وھزلہن جد:النکاح والطلاق والرجعۃ )) [1] رواہ الأربعۃ والنسائي وصححہ الحاکم‘‘ انتھیٰ [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین چیزیں قصد و ارادے سے کی جائیں تو بھی حقیقی (شمار ہوتی) ہیں اور ہنسی مذاق میں کی جائیں تو بھی حقیقی (شمار ہوتی) ہیں:نکاح،طلاق اور رجوع] وقال في سبل السلام بعد ذکر ہذا الحدیث وما في معناہ: ’’والأحادیث دلت علیٰ وقوع الطلاق من الہازل،وإنہ لا یحتاج إلی النیۃ في الصریح،وإلیہ ذھب الہادویۃ والحنفیۃ والشافعیۃ،وذہب أحمد والناصر والصادق والباقر إلی أنہ لا بد من النیۃ لعموم حدیث الأعمال بالنیات،وأجیب بأنہ عام خصہ ما ذکر من الأحادیث‘‘[2] انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [سبل السلام میں یہ حدیث اور اس مفہوم کی دیگر احادیث ذکر کرنے کے بعد کہا ہے:یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ہنسی مذاق میں طلاق دینے والے کی طرف سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور طلاق کے صریح لفظ کے ساتھ نیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔چنانچہ ہادویہ،حنفیہ اور شافعیہ اسی طرف گئے ہیں۔احمد،ناصر،صادق اور باقر اس طرف گئے ہیں کہ حدیث ’’اعمال نیتوں کے ساتھ معتبر ہیں ‘‘ کے عموم کی وجہ سے اس میں نیت کا ہونا ضروری ہے۔اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ نیتوں والی یہ حدیث عام ہے،جس کو مذکورہ بالا احادیث نے خاص کر دیا ہے] کتبہ:محمد عبدالرحمن المبارکفوري عفي عنہ بیک وقت تین طلاق دینا طلاق رجعی ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں ایک جلسہ میں دیں،پس یہ طلاق بائن ہوئی یا رجعی؟ سوال:یہ طلاق رجعی ہوئی،اس واسطے کہ ایک جلسہ میں تین طلاق دینے سے صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے۔صحیح مسلم میں ہے: [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۱۹۴) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۸۴) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۳۹) بلوغ المرام (۱۰۸۶) [2] سبل السلام (۳/ ۱۷۶)