کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 406
طلاق کے صریح لفظ میں نیت کی ضرورت نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے زینب کو پاک طینت نیک طبیعت سمجھ کر اس سے نکاح کر لیا۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد زید نے زینب کو کسی ناپسندیدہ حرکت پر اصلاحِ طبیعت کے خیال سے ایک طلاق دے دی۔بعدہ زینب دوسری طلاق کی طالب ہوئی اور بہت اصرار کیا۔زید نے مجبور ہو کر دوسری طلاق بھی دے دی۔زینب مصر ہوئی کہ تیسری طلاق بھی دے دو۔زید نے اپنے چند احباب سے مشورہ کر کے زینب سے رجعت کر لی اور تعلیمِ شریعت کے موافق کوشاں رہا کہ کسی طرح طبیعت درست ہوجائے،مگر ناکامیابی رہی اور زینب ہمیشہ طالبِ طلاق رہی۔زید نے خیال کیا کہ اب یہ تیسری باری ہے،زینب ہم سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوجائے گی،لہٰذا بغیر قصد طلاق کے کوئی ایسا لفظ کہنا چاہیے کہ جس سے قطع تعلق اور طلاق نہ ہو اور زینب سمجھے کہ قطع تعلق ہو گیا ہے۔اسی نیت کو لے کر زینب کے بڑے لڑکے سے کہا کہ تم اپنی ماں کو دوسرے گھر میں لے جاؤ،ورنہ میں تم کو پولیس کے حوالے کروں گا۔ز ینب نے کہا کہ تم سے لڑکے سے کیا نسبت؟ جب تک تم مجھ کو تیسری بھی نہ دے دو گے،میں نہ جاؤں گی۔زید نے کہا:جا،وہ بھی دے دیا۔نہ زینب کا نام لیا اور نہ لفظِ طلاق،مگر نیت طلاق کی نہیں۔ جواب:صریح لفظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ زینب تیسری طلاق ہی طلب کرتی تھی،اس کے جواب میں زید کا یہ کہنا کہ جاؤ،وہ بھی دے دیا،موجبِ طلاق ثالث ہے ز ینب پر اور ایسے موقعے پر قرینہ شاہد ہے کہ مراد ز ینب ہی کو طلاق دینا ہے۔ ’’وفي الشامي:ولا یلزم کون الإضافۃ صریحۃ في کلامہ‘‘[1] [شامی میں ہے:اس کے کلام میں اضافت کا صریح ہونا لازم نہیں آتا] البتہ اگر زید یہ کہے کہ لفظ ’’وہ بھی دے دیا‘‘ سے میں نے اشارہ طلاق کی طرف نہ کیا تھا اور مشار الیہ میرے ذہن میں کچھ اور تھا سوائے طلاق کے تو یہ کہنا اس کا دیانتاً معتبر ہوسکتا ہے،لیکن قضا میں تسلیم نہ ہوگا اور چونکہ عورت بھی مثل قاضی کے ہے،’’کما صرح في رد المحتار:إن المرأۃ کالقاضي‘‘[2] تو عورت بھی اس کو تسلیم نہ کرے گی اور اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے گی۔فقط واﷲ تعالیٰ أعلم کتبہ:عزیز الرحمن،عفي عنہ،مفتي مدرسہ دیوبند هو الموافق صورتِ مسئولہ میں تیسری طلاق ہوگئی،اگرچہ زینب کا نام نہیں لیا اور نہ لفظ طلاق کہا اور نہ طلاق کی نیت کی،اس واسطے کہ زید نے جو یہ کہا کہ جا وہ بھی دے دیا،سو زید کے اس قول میں ظاہر ہے کہ لفظ وہ ’’بھی‘‘ سے وہی [1] رد المحتار (۳/ ۲۴۸) [2] رد المحتار (۳/ ۳۰۵)