کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 403
{وَ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا} [النساء:۱۹] یعنی زندگی بسر کرو،عورتوں کے ساتھ اور صحبت رکھو ان کے ساتھ اچھی طرح پر،پس اگر ناپسند رکھو ان کو،پس شاید کہ مکروہ رکھو کسی چیز کو اور کرے اﷲ اس میں بھلائی بہت۔مولانا شاہ عبد القادر صاحب اس آیت کے فائدے میں لکھتے ہیں:’’عورتوں کے ساتھ گزر کرے تحمل کے ساتھ،اگر ان میں بعضی چیز ناپسند ہو تو شاید کچھ خوبی بھی ہو۔بد خو کے ساتھ بد خوئی نہ چاہیے۔‘‘ خلاصہ یہ کہ شوہر پر زوجہ کا نان و نفقہ اور اس کے ساتھ حسنِ معاشرت اور حسنِ خلق ضروری ہے،نیز اس کے علاوہ اس کو دین کی باتوں کی تعلیم دینا اور اس کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرنا بھی لازم ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:{قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا} [التحریم:۶] [اپنے آپ کو بھی اور اپنے اہل و عیال کو بھی آگ سے بچاؤ] 3۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کوئی شخص اپنی زوجہ کو ضرورت کے لیے بلائے تو اس کو اس کے پاس آنا ہی چاہیے،اگرچہ وہ تنور پر ہو۔اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔[1] 4۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنی عورت کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کرے اور اس وجہ سے وہ شخص غصے کی حالت میں رات بسر کرے تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔[2] 5۔سنن ابی داود میں قیس بن سعد سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں جو شہر حیرہ میں آیا تو وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے رئیس و سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے زیادہ مستحق ہیں،پھر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی کہ میں شہر حیرہ میں گیا تھا تو وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے رئیس و سردار کے لیے سجدہ کرتے ہیں،سو آپ سجدے کے لیے زیادہ مستحق ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بتاؤ اگر تم میری قبر پر جاؤ گے تو کیا اس کو بھی سجدہ کرو گے؟ میں نے کہا:نہیں۔آپ نے فرمایا:تو ایسا نہ کرنا۔اگر میں کسی شخص کو کسی شخص کے لیے سجدہ کرنے کا حکم کرتا تو عورتوں کو حکم کرتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں،اس وجہ سے کہ شوہروں کا عورتوں پر بہت کچھ حق ہے۔[3] [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۶۰) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۳۰۶۵) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۳۶) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۲۴۰) اس حدیث کے متعدد شواہد ہیں،جس کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے۔دیکھیں:سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۵۹) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۵۲۔۱۸۵۳) مسند أحمد (۴/ ۳۸۱) سنن الدارمي (۱/ ۴۰۶) صحیح ابن حبان (۹/ ۴۷۹)