کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 402
پر فرض ہے کہ اس عورت کو علاحدہ کر دے اور حاکم پر ضروری نہیں کہ وہ اس کا حکم کرے۔امام مالک کے نزدیک رضاعت میں دو عورتوں کی شہادت معتبر ہے۔ہادویہ اور حنفیہ کے نزدیک اس کی شہادت بھی دوسری شہادتوں کی طرح ہے اور صرف مرضعہ کی شہادت کافی نہیں ہے۔امام شافعی کے نزدیک مرضعہ کے ساتھ اگر تین عورتیں اور شامل ہوں تب شہادت معتبر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم استحباب پر مبنی ہے،اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے چار دفعہ مکرر سوال کیا اور آپ اس کو یہی جواب دیتے رہے:جب وہ کہہ رہی ہے تو نکاح کیسے رہ سکتا ہے؟ ایک روایت میں ہے کہ اس کو چھوڑ دے۔ایک میں ہے:تیرے لیے اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔اگر یہ احتیاط کے باب سے ہوتا تو آپ اسے طلاق کا حکم دیتے،حالاں کہ طلاق کا ذکر کسی روایت میں نہیں ہے تو یہ حکم شہادت میں معتبر عدد سے ایک مخصوص حکم ہو گا اور جب تم نے عوراتِ نساء کے متعلق ایک عورت کی شہادت کافی سمجھی ہے اور اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ مرد اس پر مطلع نہیں ہوسکتے تو یہاں بھی یہی مجبوری ہے۔نیل الاوطار میں بھی اسی طرح ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین میاں بیوی کے حقوق میں کیا فرق ہے؟ سوال:حقوقِ زن و شوہر میں کیا فرق ہے؟ جواب:زن و شوہر کے حقوق کے بارے میں چند حدیثوں کا ترجمہ لکھ دیا جاتا ہے،انھیں حدیثوں سے ان دونوں کے حقوق میں فرق معلوم ہوجائے گا۔ 1۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو،تم لوگوں نے عورتوں کو اﷲ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور ان کی شرمگاہوں کو اﷲ کے کلمے کے ساتھ حلال کیا ہے۔تمھارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو،جس کو تم ناپسند اور مکروہ سمجھتے ہو،تمہارے بستر پر نہ آنے دیں۔اگر وہ ایسا کریں سو ان کو مارو،مگر سخت مار نہ مارو اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ ان کو دستور کے موافق کھانا اور کپڑا دو۔[2] 2۔مشکاۃ شریف میں معاویہ قشیری سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ زوجہ کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تم کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب تم کپڑا پہنو تو اس کو بھی پہناؤ اور اس کے منہ پر نہ مارو اور اگر (تنبیہاً) اس سے جدائی کرو تو گھر ہی میں کرو۔اس حدیث کو احمد اور ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔[3] اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۴۶) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۲۱۸) یہ حدیث صحیح بخاری میں نہیں ہے۔ [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۱۴۲) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۵۰) مسند أحمد (۴/ ۴۴۷)