کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 401
والتحرز عن مظان الاشتباہ،وأجیب بأن ھذا خلاف الظاھر،سیما وقد تکرر سؤالہ للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أربع مرات،و أجابہ بقولہ:کیف وقد قیل؟ وفي بعض ألفاظہ:دعھا عنک،وفي روایۃ الدارقطني:لا خیر لک فیھا،ولوکان من باب الاحتیاط لأمرہ بالطلاق مع أنہ في جمیع الروایات لم یذکر الطلاق فیکون ھذا الحکم مخصوصاً من عموم الشھادۃ المعتبر فیھا العدد،وقد اعتبرتم ذلک في عورات النساء فقلتم:یکتفی بشھادۃ امرأۃ واحدۃ،والعلۃ عندھم فیہ أنہ قل ما یطلع الرجال علیٰ ذلک فالضرورۃ داعیۃ إلی اعتبارہ فکذا ھنا‘‘[1] انتھیٰ وقال في نیل الأوطار:’’ولا یخفیٰ أن النھي حقیقۃ في التحریم،فلا یخرج عن معناہ الحقیقي إلا لقرینۃ صارفۃ،والاستدلال علیٰ عدم قبول المرأۃ المرضعۃ بقولہ تعالیٰ:{وَاسْتَشْھِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ} لا یفید شیئاً،لأن الواجب بناء العام علیٰ الخاص،ولا شک أن الحدیث أخص مطلقا،أما ما رواہ أبو عبید عن علي و ابن عباس والمغیرۃ أنھم امتنعوا من التفرقۃ بین الزوجین بذلک فقد تقرر أن أقوال بعض الصحابۃ لیست بحجۃ علیٰ فرض عدم معارضتھا لما ثبت عنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم فکیف إذا عارضت ما ھو کذلک؟ وأما ما قیل من أمرہ صلی اللّٰه علیہ وسلم من باب الاحتیاط فلا یخفی مخالفتہ لما ھو الظاھر،ولا سیما بعد أن کرر السؤال أربع مرات،کما في بعض الروایات،والنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول لہ في جمیعھا:کیف وقد قیل؟ وفي بعضھا:دعھا عنک۔وفي بعضھا:لا خیر لک فیھا۔مع أنہ لم یثبت في روایۃ أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم أمرہ بالطلاق،ولو کان ذلک من باب الاحتیاط لأمرہ بہ فالحق وجوب العمل بقول المرأۃ المرضعۃ حرۃ کانت أو أمۃ‘‘[2] انتھیٰ کلامہ مختصراً،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [عقبہ بن حارث نے ام یحییٰ بنت اہاب سے نکاح کیا،ایک کالی کلوٹی لونڈی نے آکر کہا:میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔عقبہ نے جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔آپ نے منہ پھیر لیا،پھر اس نے دوسری طرف ہو کر دوبارہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب وہ کہہ رہی ہے تو تمھارا نکاح کیسے رہ سکتا ہے؟ ایک روایت میں ہے کہ اس کو چھوڑ دے۔(احمد،بخاری) سبل السلام میں ہے کہ اس حدیث میں دلیل ہے کہ مرضعہ اکیلی کی شہادت کافی ہے اور وہ قبول ہو گی۔ابن عباس،امام بخاری،احمد بن حنبل اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے۔ابو عبید نے کہا:آدمی [1] سبل السلام (۳/ ۲۱۸) [2] نیل الأوطار (۷/ ۷۵)