کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 400
رضاعت کی شہادت کے بعد نکاح باطل ہوجاتا ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ہندہ اور مریم دونوں ایک جگہ رات کو سوئی تھیں۔مریم کا یہ بیان ہے کہ نیند کی حالت میں ہندہ کا بیٹا زید،جو ایامِ رضاعت میں تھا،میرا دودھ پینے لگا۔جب میں نیند سے بیدار ہوئی اور جانا کہ زید ہے،تب اسے پینے سے علاحدہ کیا،بعدہ اس واقعہ کو چند مسماۃ سے بیان کیا،وہ مسماۃ ناقل قول مریم ہیں،لیکن کوئی شاہد چشم دید کا نہیں ہے بجز مریم کے،پس بعد انقضائے مدت دراز باوجودے کہ رضاعت ہندہ و مریم کو معلوم تھی،لیکن اس رضاعت کو بوجہ خواب کے پایۂ اعتبار سے ساقط جان کر مریم نے اپنی لڑکی سکینہ کا زید سے نکاح کر دیا ہے۔ اب یہ استفسار ہے کہ صورتِ مذکورہ میں زید و سکینہ رضاعی بہن بھائی ہوئے یا نہیں اور شہادت مریم کی ثبوتِ رضاعت کے لیے کافی ہوگی یا نہیں اور نکاح جائز ہوا یا نہیں اور صورتِ مسئولہ میں تفریق ہونا چاہیے یا نہیں ؟ موافق کتاب و سنت کے بیان فرما دیں کہ آثم کوئی نہ ہو۔ جواب:مطابق حدیث صحیح بخاری کے شہادت مریم کی ثبوت رضاعت کے لیے کافی ہوگی اور صورتِ مسئولہ میں تفریق ہونی چاہیے: ’’عن عقبۃ بن الحارث أنہ تزوج أم یحییٰ بنت أبي إھاب فجاء ت أمۃ سوداء فقالت:قد أرضعتکما۔قال:فذکرت ذلک للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فأعرض عني فتنحیت فذکرت ذلک لہ فقال:وکیف قد زعمت أنھا قد أرضعتکما؟ فنھاہ‘‘[1] رواہ أحمد والبخاري،وفي روایۃ:دعھا عنک۔[2] رواہ الجماعۃ إلا مسلما وابن ماجہ،کذا في المنتقیٰ۔ قال في سبل السلام تحت ھذا الحدیث:’’الحدیث دلیل علیٰ أن شھادۃ المرضعۃ وحدھا تقبل،وبوب علیٰ ذلک البخاري،وإلیہ ذھب ابن عباس وجماعۃ من السلف وأحمد بن حنبل،وقال أبو عبید:یجب علیٰ الرجل المفارقۃ،ولا یجب علیٰ الحاکم الحکم بذلک،وقال مالک:إنہ لا یقبل في الرضاع إلا امرأتان،وذھب الھادویۃ والحنفیۃ إلیٰ أن الرضاع کغیرہ،لا بد من شھادۃ رجلین أو رجل وامرأتین،ولا تکفي شھادۃ المرضعۃ،لأنھا تقرر فعلھا،وقال الشافعي:تقبل شھادۃ المرضعۃ مع ثلاث نسوۃ بشرط أن لا تعرض بطلب أجرۃ،قالوا:وھذا الحدیث محمول علیٰ الاستحباب [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۸۸) مسند أحمد (۴/ ۷) [2] مسند أحمد (۴/۷) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۶۰۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۵۱) سنن النسائي،رقم الحدیث (۳۳۳۰)