کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 399
بخمس رضعات فتوفي رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم وھن فیما یقرأ من القرآن‘‘[1] (رواہ مسلم) خلاصہ ترجمہ پہلی حدیث کا یہ ہے کہ ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ پینے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور دوسری حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے قرآن میں دس رضعات سے حرمتِ رضاعت ثابت ہونے کا حکم نازل ہوا تھا،پھر یہ حکم منسوخ ہو کر پانچ رضعات سے حرمتِ رضاعت ثابت ہونے کا حکم نازل ہوا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی قول ہے۔جبکہ اکثر فقہا کے نزدیک مطلق رضاعت سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوتی ہے،قلیل ہو خواہ کثیر: قال في المسویٰ:’’ذھب الشافعي إلیٰ أنہ لا یثبت حکم الرضاع في أقلَّ من خمس رضعات متفرقات،وذھب أکثر الفقھاء،منھم مالک وأبو حنیفۃ،إلیٰ أن قلیل الرضاع وکثیرہ محرم‘‘[2] [مسویٰ میں ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اس طرف گئے ہیں کہ پانچ متفرق رضعات سے کم کے ساتھ رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔لیکن اکثر فقہا،جن میں مالک اور ابو حنیفہ بھی شامل ہیں،اس طرف گئے ہیں کہ رضاعت کم ہو یا زیادہ حرمت ثابت کرتی ہے] اکثر فقہا کا استدلال نصوصِ مطلقہ سے ہے اور امام شافعی وغیرہ کا استدلال نصوص مقیدہ بخمس رضعات سے ہے اور مطلق کا مقید پر محمول کرنا قاعدہ مسلمہ ہے،بنا بریں مسلک امام شافعی رحمہ اللہ کا راجح ہے۔واﷲ أعلم بالصواب۔ حررہ:محمد علی پنجابی،عفی عنہ هو الموافق علامہ شوکانی اس مسئلے کو مع مالہا وما علیہا لکھ کر آخر میں فرماتے ہیں:’’فالظاھر ما ذھب إلیہ القائلون باعتبار الخمس‘‘ یعنی ظاہر انھیں لوگوں کا قول ہے جو لوگ خمس رضعات کے قائل ہیں،ان کے نام نامی یہ ہیں:عبداﷲ بن مسعود،عائشہ،عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہم،عطا،طاؤس،سعید بن جبیر،عروہ بن زبیر،لیث بن سعد،شافعی،احمد،اسحاق،ابن حزم و جماعۃ من اہل العلم رحمہم اللہ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مذہب مروی ہے۔[3] کذا في النیل۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ حررہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔[4] سید محمد نذیر حسین [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۵۲) [2] المسویٰ شرح الموطأ۔ [3] نیل الأوطار (۷/ ۷۰) [4] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۵۱)