کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 398
مسلم عن أم سلمۃ وسائر أزواج النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنھن خالفن عائشۃ رضی اللّٰه عنہا في ھذا‘‘[1] انتھیٰ کلام النووي،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:رضاعت (دودھ پلانا) بھوک سے ہے۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہی دودھ حرمت پیدا کرے گا،جو انتڑیوں کو پھیلائے اور دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:وہی دودھ معتبر ہے،جو ہڈیوں کو مضبوط کرے اور دو سال کی مدت کے اندر ہو۔نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دودھ وہی ہے،جو ہڈیاں مضبوط کرے اور گوشت پیدا کرے۔ابو حذیفہ کی بیوی سہلہ بنت سہیل نے سالم کو جوانی میں دودھ پلایا اور اس مسئلے میں اختلاف ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور داود ظاہری قائل ہیں کہ جوان آدمی کو بھی دودھ پلانے سے ویسی ہی حرمت ثابت ہوتی ہے،جیسے چھوٹے بچے کو پلانے سے،جبکہ باقی تمام صحابہ،تابعین اور آج کے تمام علما کہتے ہیں کہ دو سال کے اندر دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہوتی ہے،ابو حنیفہ ڈھائی سال کہتے ہیں اور زفر تین سال،جبکہ امام مالک دو سال اور کچھ دن۔جمہور نے قرآنِ مجید کی آیت ’’اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں ‘‘ اور حدیث ’’رضاعت بھوک سے ہے۔‘‘ سے استدلال کیا ہے۔وہ سہلہ کی حدیث کو خصوصیت پر محمول کرتے ہیں۔نیز حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضور کی تمام بیویوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بارے میں مخالفت کی ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ سید محمد نذیر حسین[2] سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ مسماۃ شریفہ نے (جس کی گود میں ایک لڑکا زید دو برس سے زیادہ،یعنی تین برس کا ہے) ایک لڑکی حمیدہ نام کو جس کی عمر دو برس سے کم ہے،ایک وقت بعد انفطام کے دودھ پلایا۔اب سوال یہ ہے کہ زید اور حمیدہ کا نکاح آپس میں جائز ہے یا نہیں اور ایک دفعہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں ؟ جواب:زید اور حمیدہ کا نکاح آپس میں جائز ہے اور ایک دفعہ دودھ پلانے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے،بموجب حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا: ’’إن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:لا تحرم المصۃ والمصتان۔[3] أخرجہ أحمد و مسلم،وأھل السنن،وعنھا قالت:کان فیما أنزل من القرآن عشر رضعات معلومات یحرمن ثم نسخن [1] شرح صحیح مسلم (۱۰/ ۳۱) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۴۰) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۵۰) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۰۶۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۵۰) سنن النسائي،رقم الحدیث (۳۳۰۸) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۹۴۰)